سابق چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر طارق بنوری کو کیوں برطرف کیا گیا؟ اندرونی کہانی منظر عام پر آگئی، اہم انکشافات

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر طارق بنوری کی برطرفی کی اندرونی کہانی منظر عام پر آگئی۔ انہیں ہٹانے کی وجہ ناقص کارکردگی ، شکایتوں کا انبار، ان کا رویہ ، اسٹیک ہولڈرز کا عدم اعتماد تھا جبکہ وفاقی وزیر تعلیم اور وزیراعظم ہائوس میں اہم شخصیت کو اپنی حمایت سے دستبردار ہونا پڑا۔تاہم ڈاکٹر طارق بنوری کے

قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں غلط الزامات پر ہٹایا گیا ، آرڈیننس کے ذریعے ہٹا کر نا انصافی کی گئی ، معاملے پر سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا ہے امید ہے جلد انصاف ملے گا۔روزنامہ جنگ میں سید محمد عسکری کی شائع خبر کے مطابق ڈاکٹر طارق بنوری کی تقرری شروع ہی سے تنازعات کا شکار رہی۔18مئی 2018میں وفاقی سیکرٹری تعلیم نے وزیراعظم سیکرٹریٹ کو چیئرمین ایچ ای سی کے حوالے سے سات ناموں پر مشتمل سمری بھیجی تھی جن میں سے تین امیدواروں، سابق چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد، ڈاکٹر اقرار احمد اور ڈاکٹر طاہر امین پر نیب کی جانب سے اعتراضات کے باعث چار امیدواروں کے ناموں کی سفارش کی گئی تھی۔جن میں ڈاکٹر انوار گیلانی، ڈاکٹر اقبال چوہدری، ڈاکٹر محمد مختار اور ڈاکٹر طارق بنوری شامل تھے ان چاروں ناموں کی سمری پر 11اپریل 2018 کو وفاقی وزارت قانون و انصاف نے کابینہ ڈویژن کے فیصلے کا حوالہ دیا تھا جس میں واضع طور پر تحریر کیا گیا تھا کہ 65 سال سے زائد

عمر کے افراد کی مختلف حکومتی خود مختار اداروں کے سربراہ کی حیثیت سے تقرری نہ کی جائے۔اس ہدایت کو ڈاکٹر طارق بنوری کی تقرری کرتے ہوئے یکسر مسترد کر دیا گیا تھا۔ جبکہ ان کی عمر اس وقت بھی 65برس سے زائد تھی جبکہ ان کی دہری شہریت پر کئے جانے والے

اعتراضات کو بھی اہمیت نہ دی گئی۔دوسری جانب ان کی تقرری کے حوالے سے اہم اعتراضات میں ان کا اعلی تعلیمی شعبہ میں انتظامی تدریسی اور تحقیقی تجربہ نہ ہونا تھا۔ ڈاکٹر طارق بنوری کا زیادہ تجربہ UN اور این جی اوز کے حوالے سے تھا جبکہ ایچ ای سی رولز کے تحت یہ ضروری

تھا ان کے پاس اعلی تعلیمی شعبے کا وسیع تجربہ ہو۔جب ان کی تقرری ہوئی تو تعلیمی حلقوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے اعلی تعلیمی شعبہ میں بہتری لائیں گے لیکن اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کی بجائے اہم شعبوں میں میں کنسلٹنٹس سے

کام کروایا گیا ۔وفاقی حکومت کے ڈائریکٹر جنرل آڈٹ کی رپورٹ کی مطابق مالی سال2019/ 2020 (نو) کنسلٹنٹس کی تقرری کی گئی جن میں اصول و قواعد کو نظر انداز کرکے تمام تقرریاں محض انٹرویو کی بنیاد پر ہی کر دی گئیں۔بیشتر کنسلٹنٹ بھاری تنخواہوں پر تعینات کئے

گئے اور ان تقرریوں میں میرٹ اور شفافیت کو بالائے طاق رکھ دیا گیا جبکہ تقریبا ًپانچ ملین کے لگ بھگ ماہانہ کی بنیاد پر بھاری تنخواہیں ادا کی جاتی رہیں۔چیئرمین وائس چانسلرز کمیٹی ڈاکٹر محمد علی شاہ اور دیگر وائس چانسلرز نے چیئرمین ایچ ای سی کے روئیے اور اسٹیک ہولڈرز

کو نظرانداز کیے جانے کی بات کی تھی، جبکہ ایچ ای سی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ یونیورسٹی اساتذہ کی نمائندہ تنظیم فپواسا کی جانب سے چیئرمین کی برطرفی کا مطالبہ کرکے ایچ ای سی اسلام آباد کے سامنے دھرنا دیا گیا جبکہ پی ایچ ڈی اساتذہ کو بھی وزیراعظم کی بنی گالہ

میں واقع رہائش گاہ کے سامنے ڈاکٹر طارق بنوری کیخلاف دھرنا دینا پڑا۔حالیہ طور پر متعارف کروائی گئی پی ایچ ڈی اور انڈر گریجویٹ پالیسی کو بھی تمام اسٹیک ہولڈرز نے مسترد کردیا جبکہ سندھ گورنمنٹ کے مشیر اعلیٰ تعلیم نثار کھوڑو نے ان پالیسیز کو آئین کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔

اندرونی طور پر ڈاکٹر طارق بنوری سے ایچ ای سی کے ملازمین کافی تنگ تھے اور آخر کار آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے مظاہرے کا اہتمام کرکے ڈاکٹر طارق بنوری کی برطرفی کے فیصلے کو سراہا گیا۔ذرائع کے مطابق ڈاکٹر طارق بنوری کی برطرفی کی وجہ ان کی

ناقص کارکردگی، شکایت کے انبار ان کا رویہ اور اسٹیک ہولڈرز کا عدم اعتماد تھا۔یہی وجہ ہے کہ ان کی برطرفی کو تعلیمی حلقوں اور اسٹیک ہولڈرز نے سراہا ہے۔ ڈاکٹر طارق بنوری کی یکطرفہ پالیسیوں کی وجہ سے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اور وزیراعظم ہاوس میں اہم شخصیت

کو اپنی حمایت سے دستبردار ہونا پڑا۔رابطہ کرنے پر ڈاکٹر طارق بنوری کے قریبی ذرائع کاکہنا ہے کہ آرڈیننس کے ذریعے ہٹا کر ناانصافی کی گئی ہے اورا نہیں غلط ہٹایا گیا ہے اس لئے انہوں نے ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا ہے اور امید ہے کہ وہاں سے جلد انصاف مل جائے گا۔ قریبی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ انہیں ہٹانے میں مرکزی کردار ایچ ای سی کے ایک سابق چیئرمین کا ہے ۔یاد رہے کہ سندھ ہائر ایجوکیشن کے چیئرمین ڈاکٹر عاصم حسین ڈاکٹر طارق بنوری کو قبل از وقت ہٹانے کی مذمت کرچکے ہیں اور اسے غلط اقدام قرار دیا ۔

. سابق چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر طارق بنوری کو کیوں برطرف کیا گیا؟ اندرونی کہانی منظر عام پر آگئی، اہم انکشافات ..

dadaddadd

اپنا تبصرہ بھیجیں