عمران خان نے مودی سے دوستی لگا لی حامد میر کے مودی کی نئی حکمت عملی کے بارے میں تہلکہ خیز انکشافات

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر صحافی ، اینکر پرسن اور کالم نگار حامد میر روزنامہ جنگ میں اپنے آج کے کالم ”تاریخ کسی کو معاف نہیں کرتی” میں لکھتے ہیں کہ جس مودی کو عمران خان پچھلے سال تک ہٹلر کہا کرتے تھے اس مودی کو خط لکھ کر کہا جا رہا ہے کہ پاکستانی عوام بھارت کے ساتھ دوستی چاہتے ہیں۔ بھارت کے ساتھ دوستی کوئی بری

بات نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ماضی میں جب کوئی دوسرا بھارت کے ساتھ دوستی کی بات کرتا تھا تو عمران خان اور ان کے سرپرست اسے غدار کیوں قرار دیتے تھے؟ یاد کیجئے فروری 1999 میں بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی بس میں بیٹھ کر لاہور آئے۔ مینار پاکستان پر گئے اور پاکستان کے ساتھ دوستی کی خواہش ظاہر کی۔ جواب میں کارگل کی جنگ چھیڑ دی گئی اور اکتوبر 1999میں نواز شریف کو حکومت سے اٹھا کر باہر پھینک دیا گیا۔ دسمبر 2015 میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی لاہور آئے اور پاکستان سے دوستی بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا اور کچھ عرصے بعد نواز شریف کی پھر سے چھٹی کر دی گئی۔ جب مودی صاحب خود چل کر پاکستان آئے تو عمران خان نے نواز شریف کو مودی کا یار قرار دیا۔ پھر یہی مودی ہٹلر قرار دیا گیا اور اچانک یہی مودی ہمارے وزیراعظم عمران خان کا یار بن گیا ہے۔ جب واجپائی اور مودی دوستی کا پیغام لیکر لاہور آئے تھے تو مقبوضہ جموں و کشمیر میں 370 اور 35 اے ختم نہیں

ہوا تھا۔ 5 اگست 2019 کو مودی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر پر باقاعدہ آئینی قبضہ کر لیا، ساری کشمیری قیادت کو جیلوں میں پھینک دیا۔ عمران خان نے کچھ دن تک ہٹلر ہٹلر کا شور مچایا اور اب ہٹلر سے پیار محبت شروع کر دیا ہے۔ مودی کی پالیسی یہ ہے کہ پاکستان کے ساتھ

دوستی کا ڈرامہ کرو اور کشمیریوں کو پاکستان سے محبت کی سزا دو۔ عمران خان نے مودی کے نام اپنے حالیہ خط میں کشمیر کا ذکر تو کیا ہے لیکن بھارتی جیلوں میں بند کشمیری قیادت کی رہائی کا مطالبہ نہیں کیا۔ یہ کوئی راز نہیں رہا کہ مودی حکومت نے 2007 کے مشرف فارمولے

کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کر رکھا ہے اور پاکستان میں بھی اس فارمولے کو نیا نام دیکر میڈیا میں سیلز ایجنٹ تلاش کئے جا رہے ہیں تاکہ پروڈکٹ کو عوام کیلئے قابلِ قبول بنایا جائے۔ نظر یہ آ رہا ہے کہ عمران خان کا اصل مسئلہ اب مقبوضہ کشمیر نہیں بلکہ آزاد کشمیر ہے جہاں جلد

نئے انتخابات ہونے والے ہیں۔ ان انتخابات میں عمران خان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے اختلافات کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے اور گلگت بلتستان کے بعد آزاد کشمیر میں بھی تحریک انصاف کی حکومت بنانے کی کوشش کریں گے۔ مولانا فضل الرحمن بھلے عمران خان کو کشمیر

فروش قرار دیتے رہیں لیکن خان صاحب کو ہر خوف سے آزادی مل چکی ہے کیونکہ ان کے مخالفین آپس میں لڑ رہے ہیں۔ تاریخ کسی کو معاف نہیں کرتی۔ خدا نہ کرے وہ دن آئے جب 5 اگست کی بھارت میں وہ اہمیت ہو گی جو 16دسمبر کی بنگلہ دیش میں ہے 16دسمبر کسی جنرل نیازی کی یاد دلاتا ہے 5 اگست عمران نیازی کی یاد دلایا کرے گا۔

. عمران خان نے مودی سے دوستی لگا لی حامد میر کے مودی کی نئی حکمت عملی کے بارے میں تہلکہ خیز انکشافات ..

dadaddadd

اپنا تبصرہ بھیجیں