کورونا فنڈز میں خوردبرد اور حصے وصول کرنے کا تہلکہ خیز انکشاف

لاہور(این این آئی)پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں کورونا فنڈز میں خوردبرد پر اپوزیشن ارکان کا احتجاج،حنا پرویز اور سمیرا کومل کا کورونا فنڈز میں حصے وصول کرنے پر تحقیقات کا مطالبہ،حنا پرویز نے کہا ایکسپو سینٹر قرنطینہ ر میں کروڑوں روپے کی کرپشن کی گئی،سمیرا کومل نے کہا کہ پہلے حکومت نے کورونا کیلئے چھ ارب

پھر دو ارب رکھے آدھی رقم بھی کرچ نہیں ہوسکی،ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا پنجاب حکومت نے تمام فنڈز کا استعمال درست کیا فنڈز کی تمام تفصیلات ویب سائٹ پر موجود ہیں۔پنجاب اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر دوست مزاری کی زیر صدارت ایک گھنٹہ 45منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا۔اسمبلی کے ایجنڈے پر موجود محکمہ پرائمری اینڈ ہیلتھ کیئر کے متعلق سوالوں کے جواب صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد کی جانب سے دئیے گئے۔مسلم لیگ(ن)کی رکن حناپرویز بٹ نے ایک ضمنی سوال کرتے ہوئے کہا پنجاب حکومت نے ایکسپو سینٹر لاہور میں ایک قرنطینہ سینٹر قائم کیا گیا،جس میں من پسند افراد کو ٹھیکے دینے کی خبریں سامنے آئی کہ بیڈز،کمبل ،ادویات سمیت کئی چیزوں میں کرپشن کی گئی ہے،انہی خبروں کا بعد میں نیب نے بھی نوٹس لیا اور انکوائری شروع کی۔اس کے جواب میں وزیر صحت نے کہا پنجاب حکومت نے تمام فنڈز کا درست استعمال کیا ہے،نیب اس پر کوئی انکوائری نہیں کررہا ہے،یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔لیگی خاتون سمیرا کومل نے ضمنی سوال کرتے ہوئے کہا پنجاب حکوت نے پہلے سال کورونا کیلئے چھ ارب سے زائد فنڈز رکھے دوسرے سال دو ارب سے زائد فنڈز رکھے ،جبکہ پنجاب حکومت کے اپنے جواب کے مطابق دو سالوں میں آدھے فنڈز بھی استعمال نہیں ہو سکے۔اس

کے جواب میں صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا پنجاب حکومت نے اب تک کورونا کی مد میں جہاں جہاں فنڈز استعمال کیے ہیں وہ سب ویب سائٹ پر موجود ہیں فنڈز میں کسی طرح کی خور برد نہیں ہوئی۔پیپلز پارٹی شازیہ عابد نے ایک ضمنی میں کہاجام پور ٹی ایچ کیو ہسپتال کو حکومت اپ گریڈ کا ارادہ رکھتی، جام پور 9 لاکھ

کی آبادی پر مشتمل ہے۔جس کا ٹی ایچ کیوں ہسپتال صحت کی سہولیات سے محروم ہے۔ٹی ایچ کیوں تحصل جام پور میں پانچ،دس،یا بیس بیڈز ہیں جو ناکافی ہے۔ایک کروڑ روپے کا نوکریوں کا وعدہ کیا گیا کیا حکومت جام پور درجہ چہارم کی نوکری دینے کا ارداہ رکھتی ہے،صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہاسابق حکومت نے دیہی علاقوں

میں صحت پر کوئی کام نہیں کیا ہے۔موجودہ حکومت صحت کی سہولت کیلئے کام کر رہی ہے۔ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے پیرامیڈیکل میں 32 ہزار نوکریاں دی گئی ہیںجبکہ مزید نئی نوکریاںشیڈول میں ہیں۔راجن پور مین ماہ اور بچہ کی صحت کیلئے سے ہسپتال بنایا جا رہا ہے۔اس ہسپتال سے تحصیل جام پور کے عوام کو بھی فائدہ ہوگا۔وزیر

صحت نے کہاکہ حکومت نے 32ارب روپے ہسپتالوں میں میڈیسن کے لئے رکھے ہیں اور حکومت کی کوشش ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں آنے والے تمام مریضوں کو مفت میڈیسن میسر ہوں ۔اس وقت ہسپتالوں میں میڈیسن کی کوئی کمی نہیں ہے ۔ایک سوال کے جواب میں وزیر صحت نے کہا کہ پنجاب میں ایک کروڑ 70 لاکھ کورونا ویکسین کی خوارکیں آ رہی ہیں،ویکسین لگانے میں 65 اور 65 سے سال زائد افراد کو ترجیح دی جائے گئی۔ڈپٹی

سپیکر سرداردوست محمد مزاری نے رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ بہتر ہوگا پنجاب اسمبلی کے ارکان کو کورونا ویکسین لگائی جائے ، اراکین اسمبلی کی عوامی حلقوں میں لوگوں سے ملاقاتیں رہتی ہے۔پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں دو محکموں کی آڈٹ رپورٹس پیش کردی گئی،سالانہ آڈٹ رپورٹس صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے ایوان میں پیش کیں۔ جس کے بعد ایجنڈا مکمل ہونے پر اجلاس بروز منگل دوپہردوپہر دو بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

. کورونا فنڈز میں خوردبرد اور حصے وصول کرنے کا تہلکہ خیز انکشاف ..

dadaddadd

اپنا تبصرہ بھیجیں