اہم پارٹی کا جنرل اور خواتین نشستوں پر اپنے ووٹ ضائع کرنے کا اعلان

کراچی (این این آئی) تحریک لبیک یارسول پاکستان سندھ کے امیر علامہ غلام غوث بغدادی،امیر کراچی علامہ رضی حسینی،ایم پی اے مفتی قاسم فخری،امیدوار برائے سینٹ یشاء اللہ خان، ناظم اعلی سندھ صوفی یحیی قادری، ایم پی اے یونس سومرو، ایم پی اے ثروت فاطمہ صاحبہ نے پریس کلب میں سینٹ انتخابات کے عنوان پر پریس کانفرنس کی علامہ غلام غوث بغدادی نے کہاکہ

امت مسلمہ اور اہلیان پاکستان نے بالعموم اور تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان و عہدیداران نے بالخصوص آج سے 103 روز قبل دل زخمی کردینے والا صدمہ برداشت کیا،خصوصا عاشقان مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ الفاظ بجلی بن کر گرے کہ اس دور میں تحفظ ناموس رسالت کے لیے اٹھنے والی سب سے بڑی آواز حضرت علامہ خادم حسین رضوی آخرت کے سفر پر روانہ ہوگئے،اسکے بعد اپنے تو اپنے مخالفین کے بھی چہرے آنسوؤں سے تر ہوگئے اور انکی حیات میں جو انکے مخالفین تھے انہوں نے بھی حضرت کے جنازے میں شرکت کے لیے پوری دنیا سے لاہور کی جانب سے رخت سفر باندھا اور پھر ہر ایک نے دیکھا گریٹر اقبال پارک (مینار پاکستان) اپنی وسعت کے باجود تنگ پڑ گیا صرف یہی نہیں ارد گرد کے تمام روڈ اور ہر ایک جگہ انسانی سمندر امنڈ آیا اور غیر ملکی میڈیا کے مطابق تقریباً ایک کروڑ ستر لاکھ افراد نے جنازے میں شرکت کی،حضرت کے وصال پر بعض لوگوں کا کہنا یہ تھا کہ لوگوں کی اب اس تحریک سے محبت پہلے جیسی نہیں رہے گی ۔ اور کچھ دنوں میں ہی یہ جذبات سرد پڑ جائیں گے۔۔۔۔لیکن الحمد للہ حضور امیر المجاھدین رحمۃ اللہ علیہ کے شہزادے اور ہمارے عظیم قائد حضرت علامہ حافظ سعد حسین رضوی کی قیادت میں ایک نئے جذبے کے ساتھ لوگ مجتمع ہوئے اور ہمارے امیر محترم کی قیادت میں لوگوں کے تحفظ ناموس رسالت کے لیے جذبات ہی کو دیکھ کر حکومت نیتحریک لبیک یا رسول اللہؐ سے تحفظ ناموس رسالت کے عظیم کاز فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے لیے پارلیمنٹ میں قرارداد لانے کیلئے مہلت مانگی اور گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوئی جسکا اظہار خود وزیر اعظم صاحب نیکیا،جیساکہ آپکے علم میں ہے کل بروز بدھ 3 مارچ وطن عزیز پاکستان میں سینٹ انتخابات کا انعقاد کیا جارہا ہے، جسکی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں، الحمد للہ تحریک لبیک پاکستان بھی قائد

محترم جناب حافظ سعد حسین رضوی کی خصوصی ہدایت پر اس انتخاب میں حصہ لے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ میدان لگ چکا ہے، گزری رات 12 بجے تک اعلانیہ و غیر اعلانیہ اور اسکے بعد غیر اعلانیہ جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے حکومت اور اپوزیشن دونوں جانب سے دوسری پارٹیوں کے ایم این ایز اور ایم پی ایز سے رابطوں کا دعویٰ ہے،اربوں روپے کا کاروبار کیا جارہا ہے اور ٹکٹ جاری ہونے

سے لیکر ووٹ حاصل کرنے کی جدوجہد اربوں روپے کا کھیل بن چکی ہے، تجوریاں بھری اور آئندہ بھرنے کی امید پر خالی کی جارہی ہیں، چند روز پہلے تک عوام کے غم میں ہلکان اپوزیشن اور عوام کو سہولیات دینے کی بات آنے پر خالی خزانہ کا رونا رونے والی حکومت ہر کوئی خزانوں کا منہ کھولے بیٹھا ہے اور منڈی لگی ہوئی ہے جہاں اشرف المخلوقات انسان جو کہ عام انسان نہیں بلکہ عوامی ووٹوں سے منتخب ہونے والے نمائندے ہیں وہ بکنے کے لیے زیادہ بولی کی راہ تک رہے ہیںاسلامی تشخص کی

دعویدار پارٹی بتوں پر دودھ چڑھانے والوں کی حمایت کا اعلان کر چکی ہے،عجیب کشمکش کی صورتحال ہے۔سینٹ انتخابات میں اربوں روپے کی ہارس ٹریڈنگ کا بَیِّن ثبوت پچھلے دنوں پورے پاکستان نے دیکھا اور عوام کے نام نہاد نمائندے اپنے ضمیروں کا سودا کرتے ہوئے دکھائی دیئے۔۔ذاتی مفادات کی جنگ اس حد تک بڑھ گئی کہ ظاہری طور پر عوام کے درد میں مگرمچھ کے آنسو بہانے والے وطنِ عزیز پاکستان کے وزیر اعظم صاحب کے بارے میں یہ خبر آئی کہ انہوں نے اس انتخاب کی وجہ سے

اپنی تمام حکومتی مصروفیات ترک کردی ہیں اور ان انتخابات کے لیے اپنے ایم این ایز اور ایم پی ایز کو منانے میں مصروف عمل ہیں،اور بڑے بڑے دعوے کرنے والے وزیر اعظم صاحب کی اپنی پارٹی پر گرفت کا عالم یہ ہے کہ ایک ایک ایم این اے اور ایم پی اے فخر و غرور کا شکار وزیر اعظم صاحب کو بلیک میل کرنے میں مصروف ہے،خوف کی فضا کا عالم یہ ہے کہ گزشتہ رات سے ہی اراکین اسمبلی کے لیے ہوٹل میں کمرے بک کرالیے گئے ہیں اور انہیں پرتعیش رہائش دیکر گھر نہ جانے کی درخواست کی جارہی ہے۔۔۔۔۔پاکستان کی سیاست پر قابض جماعتیں چاہیں وہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں ہر ایک دوسرے کو بلیک میل کرنے یا لالچ دیکر خریدنے کی کوششوں میں مصروف ہے،جیساکہ ایم کیو ایم کے بارے میں

پہلے یہ پتا چلا کہ وہ اگرچہ حکومتی اتحاد میں شامل ہے مگر وہ مرکز کی سینٹ سیٹ پر اپوزیشن کو سپورٹ کرے گی،پھر چند ہی گھنٹوںمیں حکومت سے اپنی شرائط منوانے کے بعد اور نئی تنخواہ طے ہونے کے بعد حکومتی سپورٹ پر راضی ہوگئے،بلکہ خبریں یہاں تک ہیں کہ عوام کے سامنے دست و گریباں حکومت اور اپوزیشن نے اندرون خانہ بندر بانٹ کا پروگرام بھی بنا رکھا ہے اور ذرائع کے مطابق حکومت نے پی ڈی ایم کے ایک اہم لیڈر کو اسلام آباد میں سپورٹ کے بدلے بلوچستان کی چھ سیٹیں پلیٹ میں

سجا کر دینے کی آفر کی ہے،الحمد للہ تحریک لبیک پاکستان نے محبوب علیہ السلام کے صدقے اس تمام گندگی سے اپنا دامن بچا رکھا ہے جسکی گواہی پچھلے دنوں ہمارے سخت نظریاتی مخالفین نے بھی ٹی وی پروگراموں میں دی،تحریک لبیک پاکستان سندھ کابینہ اور پارلیمانی بورڈ نیطویل غور و خوض کیا کہ سینٹ کی اس دوڑ کوئی ایسا شخص دکھائی دے جسکا تعلق چاہے کسی بھی جماعت سے ہو بس وہ اسلام، پاکستان اور عوام کا درد رکھتا ہو اور امت مسلمہ کا غم محسوس کرتا ہو تو اسے اس نیک نامی پر ووٹ دیا جائے۔

لیکن نہایت سوچ و بچار کے بعد انتہائی افسوس ہوا کہ اس لسٹ میں کوئی ایسا نام نہیں،،بلکہ ان میں کوئی زرداری کا نوکر اور کوئی عمران کا چاکر ہیاور کوئی نواز شریف کا چاہنے والا ہے،،،ان میں سے کوئی ایسانہیں جو ماضی قریب یابعید میں کسی بھی طرح اسلام، پاکستان اور قوم کے لئے کوئی خدمت سر انجام دی ہوبلکہ یہ سب انہی چوروں لٹیروں کے حامی کے طور پر سامنے آئے ہیں۔اور میرے آقا و مولی ؐنے ارشاد فرمایا: مَنْ مَشٰی مَعَ ظَالِم لِیُعِیْنَہ وَھُوَ یَعْلَمُ اَنَّہ ظَا لِم فَقَدْ خَرَجَ مِنَ الْاِسْلاَم(المعجم الکبیر)جو

ظالم کا ساتھ دینے کے لئے چلے اسکے لئے فرمایا خرج من الاسلام۔محبوب کریم ؐ نے اسے کتنا سخت ناپسند فرمایا اس سے اندازہ لگائیے۔چنانچہ تحر یک لبیک پاکستان سندھ کابینہ اور پارلیمانی بورڈ نے موجودہ صورتحال میں انتہائی غور ومشاورت کے بعد متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے(جسکی توثیق امیر محترم نے بھی فرمادی ہے) کہ اپنا ووٹ ضائع کردینا بہتر ہے بنسبت اسکے کہ یہ پاکیزہ امانت کسی اسلام دشمن، دینی تشخص کے مخالف اور پاکستان کو دیمک کی طرح چاٹنے والے اور عوام کا خون چوسنے والوں کو

دی جائے،تحریک لبیک پاکستان سندھ اسمبلی کے تینوں ارکان جناب مفتی قاسم فخری، محمد یونس سومرو اور ہماری بہن ثروت فاطمہ صاحبہ ٹیکنوکریٹ سیٹ پر اپنا حق رائے دہی عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سرشار، نظریہ پاکستان کے حامل اور حب الوطنی میں پختہ امیدوار جناب یشاء اللہ خان افغان کو ووٹ دیکراستعمال کرینگے،اور الحمد للہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ یہ نظریہ ناقابل فروخت ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اس نظریے کو خرید نہیں سکتی،تحر یک لبیک پاکستان سندھ کابینہ اور پارلیمانی

بورڈ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ان شاء اللہ تعالیٰ تحریک لبیک پاکستان تا قیام قیامت اپنے نظریے پر قائم رہے گی اور ہمارا نظریہ اور منشور بالکل واضح ہے۔اسلام،پاکستان اور عوامتحریک لبیک پاکستان اپنے قائد محترم حضرت علامہ حافظ سعد حسین رضوی صاحب کی قیادت میں اپنی جدوجہد تحفظ ناموس رسالت و ختم نبوت اور محبوب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو تخت پر لانے کے لیے ہمیشہ جاری رکھے گی اور اسلام اور پاکستان کے خلاف ہونے والی قومی اور بین الاقوامی سازشوں کے خلاف سینہ سپر رہے گی۔

. اہم پارٹی کا جنرل اور خواتین نشستوں پر اپنے ووٹ ضائع کرنے کا اعلان ..

dadaddadd

اپنا تبصرہ بھیجیں