سندھ اسمبلی کے فلور پر ڈرامہ پلانٹڈ ، پی ٹی آئی اراکین کے اغواء اور خریدو فروخت معاملہ ، پیپلز پارٹی کا دوٹو ک اعلان 

کراچی (این این آئی) صوبائی وزیر اطلاعات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے پی ٹی آئی کی جانب سے اراکین کے اغوا ء اور خریدوفروخت کے الزا ما ت کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی جمہوریت پر یقین رکھتی ہے اور ہر کسی کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے ضمیر کے مطا بق ووٹ ڈالے کسی پر کوئی دباؤ نہیں۔ یہ بات انہوں نے سندھ اسمبلی میں میڈیا کا ر نر پر صحافیوں سے

گفتگو کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خصوصی ہدایات دی ہیں کہ پورا عمل جمہوری طریقے سے ہونا چاہیے جو جس کو ووٹ دینا چاہتا ہے یہ اراکین کی صوابدید ہے۔انہوں نے کہا کہ آج سندھ اسمبلی کے فلور پر ناخوشگوار واقعہ پیش آیا جو نہیں ہونا چاہیے تھا یہ ڈرامہ کیا گیا ہے۔یہ پلانٹڈ تھا یا اس میں کوئی حقیقت ہے پیپلزپارٹی کا اس سے کوئی تعلق نہیں، اگر ایسی کوئی بات ہوتی تو ان کو ظاہر ہی نہیں کیا جاتا وہ ویسے ہی خاموشی سے ووٹ ڈال دیتے ۔ہمیں ووٹ سے مطلب ہوتا تو ان کو سامنے لانے کا جواز ہی نہیں بنتا۔انہوں نے کہا کے کریم بخش گبول نے گزشتہ روز ایک ویڈیو بیان جاری کر کے اپنی جماعت سے ناراضگی کا اظہار کیا اس کے بعد دیگر دو اراکین محمد اسلم ابڑو اور شہریار شر نے بھی ویڈیو بیان میں اپنی پارٹی کی نامزدگیوں اور رویوں پر تحفظات ظاہر کیے۔پیپلز پارٹی کا ان باتوں سے کوئی تعلق نہیں، آج یہ تینوں اراکین ایک ہی گاڑی میں ساتھ اسمبلی آئے ان کو کس نے دھمکی دی یہ وہ خو د ہی بتا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کریم بخش گبول کو پی ٹی آئی کے ایم پی ایز زبردستی لے کر جانا چاہتے تھے جس پر پیپلز پارٹی کے ایم پی ایز نے ان کو روکا لیکن جب گبو ل صاحب نے ہما ر ے ایم پی ایز کو کہا کے وہ ان کے ساتھ جانا چاہتے ہیں تو ہمارے ایم پی ایز ہٹ گئے۔اگر دھونس دھمکی اور دھاندلی کی بات ہوتی تو ہمارے ایم پی ایز تو تعداد میں زیادہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ تمام صوبوں میں جس طرح کی پی ٹی آئی نے نا مز دگیا ں کی ہیں اس پر انکے سینئر ارا کین نے میڈیا پر ان کو ووٹ نہ دینے کے بیانا ت دیئے ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کا فیصلہ انہیں قبول ہے ہم ان کے پاس سیاسی پروسیس کے تحت سب کے سامنے گئے تھے ہم نے انہیں ایک پیشکش کی جو کہ جمہوری طریقے سے ہم کر سکتے ہیں۔ انہوں نے رابطہ کمیٹی میں مشاورت کی بعد جو فیصلہ کیا ہمیں قبول ہے ۔وفاقی حکومت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں اچھی بات ہے لیکن اگر وہ ہمارا ساتھ دیں تو زیادہ اچھی بات تھی ۔ایک اور سوا ل کے جوا ب میں انہو ں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان دو دن  ارا کین اسمبلی سے ملیں گے کیا وہ پہلے ارا کین اسمبلی سے نہیں ملتے تھے، ان کو اندازہ ہے کہ ان نامزدگیوں پر ان کے اپنے لوگوں کو اعتراضات ہیںاس لئے  انہو ں نے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ الیکشن کمیشن پر اعتماد ہو نے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے تمام اداروں پر یقین ہے جو بھی کریں گے بہتر کریں گے، پی ٹی آئی والے ہر کسی پر الزامات لگاتے ہیں یہ باولے ہو گئے ہیں اور بو کھلا گئے ہیں، آج تو انہوں نے صحافیوں پر بھی الزامات لگا دیے ہیں ،وفاقی حکومت انتقام اور الزاما ت کی حکومت ہے ظاہر ہے اس کے اثرات نیچے تو آئیں گے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ سینیٹ کے ووٹ پر ڈیفیکشن نہیں ہوئی وزیراعظم اور مالیاتی بل پر اگر کوئی اپنی پارٹی سے انحراف کرتا ہے تو ڈیفیکشن بنتی ہے ۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد امیدواروں کو اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دوں گا پیپلز پارٹی نے اپنے کارکنوں کو سینیٹ کیلئے نامزد کیا ہے۔ ایسی نا مزدگی بتائیں جس پر اعتراض ہو۔ یوسف رضا گیلانی، فرحت اللہ بابر اور تاج حیدر پیپلزپارٹی کے کارکن ہیں شہید بھٹو اور بی بی شہید کے ساتھی ہیں اور چیئرمین بلاول بھٹو کے جانثار ہیں ،ان کی پیپلز پارٹی سے دیرینہ وابستگی ہے۔

. سندھ اسمبلی کے فلور پر ڈرامہ پلانٹڈ ، پی ٹی آئی اراکین کے اغواء اور خریدو فروخت معاملہ ، پیپلز پارٹی کا دوٹو ک اعلان  ..

dadaddadd

اپنا تبصرہ بھیجیں