یوسف رضا گیلانی کی سینٹ الیکشن میں فتح وزیراعظم عمران خان کا ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ

اسلام آباد(آن لائن)وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اعلان کیا ہے کہ عمران خان ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کیا ہے،عمران خان نیکہہ دیا وہ تب تک وزیراعظم ہیں جب تک ایوان کا ان پراعتماد ہے،الیکشن کمیشن صاف وشفاف سینیٹ انتخاب کرانے میں ناکام رہااور وہ معیار پر پورا نہیں اترا،آج جمہوریت کیلئے سیاہ ترین دن ہے، وقتی طورپر یزیدی قوتوں کو کامیابی ملی، ہم حق و باطل کی لڑائی لڑتے رہیں

اورفتح حق و سچ کی ہو گی ،ضمیر کے سوداگروں نے ضمیر خریدے،نوٹ کے بدلے ووٹ لیے، آج عمران خان کے بیانیے پر مہر ثبت ہو گئی ہے۔وفاقی وزراء اسد عمر،شفقت محمود، اور مشیر و معاون کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرخارجہ نے کہاکہ اپوزیشن کے کہنے اور کرنے میں تضاد واضح ہو گیا ہے ہم نے آئینی ترمیم کی کوشش کی اور اسے اسمبلی میں لے کر گئے، وہاں پر دو بڑی جماعتوں کا رویے سب نے دیکھا نہ انہوں نے اس پر بحث ہونے دی اور نہ ہی اپنے وعدے کے مطابق وہ اوپن بیلٹ کی، ابہام کو دور کرنے کے لئے آئین اس کے بارے میں کیا رائے رکھتا ہے، ہم سپریم کورٹ گئے اور ایک ریفرنس فائل کیا تاکہ رہنمائی حاصل کرسکیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ آئین کی تشریح کا حق سپریم کورٹ کو حاصل ہے سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا اس کو کھلے دل سے احترام کیا لیکن سپریم کورٹ نے اس فیصلے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کو آئین کے عین مطابق ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا،سپریم کورٹ نے آگاہ کیا کہ شفاف الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے لیکن الیکشن کمیشن آف پاکستان اس شفافیت کو یقینی بنانے میں ناکام رہا اور ہمارے خدشات سچ ثابت ہوئے اس حوالے سے الیکشن کے ایک رات پہلے ویڈیو آئی اور فواد چوہدری نے الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے کی کوشش کی لیکن وہاں سناٹا تھا اگلے دن انتخابات ہونے تھے مگر الیکشن کمیشن میں کوئی موجود نہیں تھا۔اب الیکشن کمیشن پر زیادہ ذمہ داری ہوتی تھی کہ وہ شفاف انتخابات یقینی بنائے، مجھے یہ کہتے ہوئے افسوس ہورہا ہے کہ جس معیار پر الیکشن کمیشن کو اترنا چاہیے تھا وہ اس معیار پر پورا نہیں اترا۔علی حیدرگیلانی، ان کا چہرہ اور ان کی حرکتیں قوم کے سامنے ہیں اور جس قسم کی حرکت پیپلزپارٹی نے کی ہے وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے الیکشن کمیشن کو اپنی ذمہ داری نبھانا چاہیے تھی اور ہم نے الیکشن کمیشن سے ذمہ داری نبھانے کا کہا بھی تھا لیکن اس کے باوجود ہمیں جواب ملا کہ کریں گے لیکن اگلے انتخابات میں کریں گے

اس انتخاب میں ہمارے پاس وقت نہیں اگر دیکھا جائے تو کوئی لاکھوں بیلٹ پیپرز کا بندوبست نہیں کرنا تھا بلکہ چند سو بیلٹ پیپرز پرنٹ کرنے تھے اور یہ عین ممکن تھا جو نہ ہو سکا ، آج قوم کے سامنے ہم رکھنا چاہتے ہیں کہ یہ لڑائی جو عمران خان نے شروع کی تھی یہ حق و باطل کی لڑائی تھی، عمران خان نے سیاسی کلچر کو تبدیل کرنے کی بڑی کوشش کی اور ہر میدان میں احتساب کے

عمل اور خودداری کو اجاگر کرنے کی کوشش کی اس لڑائی میں قوم دیکھ رہی ہے کہ کون کہاں کھڑا ہے اللہ کے فضل و کرم سے میں اس ووٹر کو باور کرانا چاہتا ہوں جس نے عمران خان کے نظریے کا ساتھ دیا، یہ لڑائی جاری تھی اور جاری رہے گی اور حق و باطل کی جنگ ہم لڑتے رہیں گے وقتی طورپر یزیدی قوتوں کو کامیابی دکھائی دے سکتی ہے لیکن آخری فتح حق و سچ کی ہو گی اور ضمیر کے

سوداگروں کو ناکامی ہو گی میری نظر میں آج کا دن پاکستان کی جمہوریت کیلئے ایک افسوس کا دن ہے وہ جو جمہوریت کے علمبردار تھے آج جمہوری قدروں کا قتل کیا ہے ان کی نفی کی ہے اور کھلے عام کی ہے اور یہ سب قوم کے سامنے ہے۔انہوں نے کہاکہ عمران خان اور ان کی جماعت نے ایک متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ عمران خان انشا اللہ اس ایوان سے اعتماد کا ووٹ لیں گے اور واضح ہو جائے گا کون کہاں کھڑا ہے، جو عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں وہ ایک طرف دکھائی دیں گے جو نہیں کھڑے کہ

ان ن لیگ یا ان کے حلیفوں کا نظریہ پسند آگیا ہے تو یہ ان کو حق ہے کہ وہ برملا ان کی صفوں میں کھڑے ہو جائیں، ہم اپنے نظریے اور تحریک انصاف کیساتھ کھڑے ہیں، عوام کو ہم پر اعتماد ہونا چاہیے کہ ہم اس لڑائی میں ان کا مقابلہ کریں گے،اپوزیشن فرار، ذاتی مفاد کی سیاست کرتے ہیں مگر ہم ایسی سیاست کو دفن کرکے دم لیں گے۔ایک سوال کے جواب میں وزیرخارجہ نے کہاکہ تحریک انصاف ایک

ایسی جماعت ہے جو کھلے اظہار کا موقع دیتی ہے، وزیراعظم میں اتنا حوصلہ ہے کہ ممبران کی ہر قسم کی باتیں سنتے ہیں اوران کو مطمئن کرتے ہیں اورجائز باتیں تسلیم بھی کرتے ہیں، لوگوں نے بات کی اور وزیراعظم نے ان کو حوصلہ بھی دیا اور لوگوں نے وزیراعظم کی باتوں پر یقین بھی کیا اگر ہمارے اراکین ناراض تھے تو وہ کھل کر ووٹ دے دیتے جیسے سندھ میں دو اراکین نے کھل کر وہاں اپنا ووٹ کا استعمال کیا اور اگرناراض اراکین میں اتنی اخلاقی جرات تھی تو کھل کر کہتے کہ ہم گیلانی کو ووٹ دے رہا ہوں اور نوٹ کو ووٹ دے رہا ہوں۔ایک اور سوال پر انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ نے آئین کی تشریح کی اور آئین کے مطابق ووٹنگ کرائی جائے تو آئین خفیہ بیلٹ کا کہتا تھا تاہم سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو انتخابات شفاف بنانے کی ذمہ داری سونپی تھی۔

. یوسف رضا گیلانی کی سینٹ الیکشن میں فتح وزیراعظم عمران خان کا ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ ..

dadaddadd

اپنا تبصرہ بھیجیں