1971ء میں پاکستان کے ایک روپے کے چار ٹکا آتے تھے‘ آج ایک ٹکا پاکستان کےکتنے روپے کے برابر ہے؟ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )سینئر کالم نگار جاوید چودھری اپنے کالم ’’وہ وقت کب آئے گا‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔۔یہ بنگلہ دیش کے اکنامک ماڈل کا پہلا حصہ ہے‘ آپ اب اس ماڈل کا دوسرا اور تیسرا حصہ بھی دیکھیے‘ 1971ء تک بنگلہ دیش کی معیشت ”امپورٹ بیسڈ“ تھی‘ کھانے کا سامان تک باہر سے آتا تھا‘ مشرقی پاکستان میں باتھ روم بھی مغربی پاکستان بنواتا تھا لیکن بنگلہ دیش نے

آہستہ آہستہ اپنی معیشت کو امپورٹ سے ایکسپورٹ میں تبدیل کر دیا یہاں تک کہ 2018ء میں بنگلہ دیش کی ایکسپورٹس 45 بلین ڈالرز تھیں‘ یہ اس سال 47 بلین تک پہنچ چکی ہیں اوریہ 2021ء میں اپنی پچاسویں سالگرہ 50 بلین ڈالرز کی ایکسپورٹس کے ساتھ منائیں گے اور بنگلہ دیش نے یہ فیصلہ آج سے دس سال پہلے کیا۔بنگالی حکومت نے 2011ء میں اعلان کیا تھا ہم نے پچاسویں سالگرہ تک (2021ء) پچاس بلین ڈالرز کی ایکسپورٹس کا ٹارگٹ اچیو کرنا ہے اور یہ تقریباً اس ٹارگٹ کے قریب پہنچ چکے ہیں‘ اس کا جی ڈی پی بھی 348 بلین ڈالرز ہو چکا ہے اورگروتھ 7 اعشاریہ 9 فیصد ہے‘ یہ اس لحاظ سے دنیا کی 39ویں معیشت بن چکا ہے‘ اس کے مقابلے میں ہماری گروتھ منفی 0.4 ہو چکی ہے‘ جی ڈی پی 280 بلین ڈالرزہے اور ہم 22 کروڑ لوگ صرف 20 بلین ڈالرز کی ایکسپورٹس کرتے ہیں۔آپ یہ حقیقت بھی ملاحظہ کیجیے بنگلہ دیش میں کاٹن پیدانہیں ہوتی لیکن یہ کپاس امپورٹ کر کے 20 بلین ڈالرز کا تیار کپڑا‘ 19 بلین ڈالرز کا دھاگا‘ سوا بلین ڈالرز کے جوتے (جاگرز) اور ایک بلین ڈالرز کی کاٹن ایکسیسریز ایکسپورٹ کرتا ہے جب کہ کاغذ اور گرم کپڑے کی ایکسپورٹ 603 ملین ڈالرز‘ مچھلی 532 ملین ڈالرز‘ چمڑا 368 ملین ڈالرز‘ ٹوپیاں 332 ملین ڈالرز‘ کھالیں 140 ملین ڈالرز اور پلاسٹک کی مصنوعات کی ایکسپورٹ 113 ملین ڈالرز ہے۔ یہ بڑی تیزی سے دنیا کے دس بڑے ایکسپورٹرز کی لسٹ کی طرف بھی بڑھ رہا ہے اور بنگلہ دیش کے فارن ایکس چینج ریزروز بھی39 بلین ڈالرزہیں

جب کہ ہمارے ریزروز 19بلین ڈالرز ہیں۔بنگلہ دیش کی کرنسی کا نام ٹکا ہے‘ 1971ء میں پاکستان کے ایک روپے کے چار ٹکا آتے تھے‘ آج ایک ٹکا پاکستان کے اڑھائی روپے کے برابر ہے‘ آج بھارتی اور بنگلہ دیشی کرنسی برابر ہو چکی ہے اور آپ یہ بھی ذہن میں رکھیں بنگلہ دیش نے یہ ساری معیشت کمائی ہے‘ اس میں کوئی کولیشن سپورٹ فنڈ‘ وار آن ٹیرراور افغان جہاد کے پیسے شامل نہیں ہیں‘

یہ ان کے ہاتھوں کی کمائی ہے جب کہ ہم امریکا‘ عربوں اور چین کے سب سے بڑے جنگی سپورٹر ہونے کے باوجود کاسہ گدائی لے کر گلی گلی پھر رہے ہیں۔یہ بنگالی کون ہیں؟ کیا یہ وہی لوگ نہیں ہیں ہم جن کے ساتھ ہاتھ تک ملانے کے روادار نہیں ہوتے تھے‘ یہ وہی لوگ نہیں ہیں جنہیں ہم چھوٹے قدوں‘ تنگ چھاتیوں اور کالی رنگت کی وجہ سے فوج اور پولیس میں بھرتی نہیں کرتے تھے؟

ہم جنہیں ویٹرز اور خانساموں سے اوپر سٹیٹس دینے کے لیے تیار نہیں تھے‘ ہم جنہیں کنٹرول کرنے کے لیے مغربی پاکستان سے میجر جنرل اور چیف سیکرٹری بھجوا دیتے تھے اور وہ وائسرائے بن کر پورے مشرقی پاکستان کو کنٹرول کرتے تھے۔ہم جن کے بارے میں کہتے تھے بنگالیوں کو باتھ رومز اور ٹوائلٹس کی کوئی ضرورت نہیں‘ یہ سرکنڈوں کے پیچھے بیٹھ کر سب کچھ کر لیتے ہیں

اور ہم جن کے لیڈروں کو دھوتی والے بھی کہا کرتے تھے اور انہیں اٹھا کر جیلوں میں پھینک دیتے تھے‘ ہم 1971ء تک ان کے بارے میں کہا کرتے تھے یہ ہم سے الگ رہ کر ایک سال نہیں گزار سکیں گے اور یہ روتے ہوئے ہمارے پاس آئیں گے لیکن آج 49 سال بعد بنگلہ دیشی کہاں ہیں اور ہم کہاں ہیں؟ ہم بہادر‘ دانشور‘ چالاک اور خوب صورت ہونے کے باوجود نیچے سے نیچے جا رہے ہیں

جب کہ بنگالی بدصورت‘ بے وقوف‘ نالائق اور بزدل (یہ ہماری اشرافیہ کہا کرتی تھی‘ میری رائے بنگالیوں کے بارے میں بالکل مختلف ہے) ہونے کے باوجود ترقی پر ترقی کرتے جا رہے ہیں۔بنگلہ دیش کی آبادی 1971ء میں ساڑھے چھ کروڑتھی اور ہم چھ کروڑتھے لیکن آج یہ ساڑھے سولہ کروڑ ہیں اور ہم 22کروڑہیں یعنی بنگالیوں

نے اپنی آبادی تک کنٹرول کرلی اور ہم اپنی آبادی پر بھی قابو نہ پا سکے‘ ہم دھڑادھڑ پھیلتے چلے جا رہے ہیں‘ ہماری شرح خواندگی73سال بعد 60فیصداور بنگلہ دیش کی49سال میں 74فیصد ہو گئی‘ ہم آج بھی مارشل لاء کے خوف کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں جب کہ بنگلہ دیش میں ہر گزرتے دن کے ساتھ جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہو رہی ہیں۔

. 1971ء میں پاکستان کے ایک روپے کے چار ٹکا آتے تھے‘ آج ایک ٹکا پاکستان کےکتنے روپے کے برابر ہے؟ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے ..

dadaddadd

اپنا تبصرہ بھیجیں