میونخ سکیورٹی کانفرنس، دعوت نامے احتیاط سے کھولیں کیونکہ ۔۔۔شرکا کو بڑے خطرے سے آگاہ کردیا گیا

میونخ (این این آئی)جرمن شہر میونخ کی سالانہ سکیورٹی کانفرنس عالمی سطح پر سلامتی سے متعلق اپنی نوعیت کا انتہائی اہم اجتماع ہوتا ہے لیکن ایسی آئندہ کانفرنس سے متعلق نامعلوم مجرموں نے کئی شخصیات کو خطرناک دعوت نامے بھیجنا شروع کر دیے ہیں۔جنوبی جرمن صوبے باویریا کے دارالحکومت میونخ سے  ملنے والی رپورٹوں کے مطابق 57 ویں سالانہ میونخ سکیورٹی کانفرنس اگلے

برس 19 تا 21 فروری منعقد کی جائے گی۔ لیکن اس اجتماع کے منتظمین کو پتا چلا ہے کہ نامعلوم ہیکروں نے دنیا کی کئی اہم شخصیات کو، جن میں سے بہت سی عموما ًاس کانفرنس میں شرکت کرتی ہیں، اس اجتماع کے دعوت نامے ای میل کے ذریعے بھیجنا شروع کر دیے ہیں۔لیکن اہم بات یہ ہے کہ یہ ای میلز انتہائی خطرناک ہیں، جنہیں سائبر سکیورٹی کی زبان میںفشنگ ای میلز کہتے ہیں اور ان کا مقصد ان کے وصول کنندہ افراد کا ڈیٹا چوری کرنا ہوتا ہے۔ میونخ کانفرنس کے منتظمین نے کہا ہے کہ یہ جعلی اور خطرناک الیکٹرانک دعوت نامے کانفرنس کی انتظامیہ کی طرف سے نہیں بھیجے گئے بلکہ یہ نامعلوم ہیکروں کی کارروائی ہے۔اسی لیے میونخ سکیورٹی کانفرنس کے ایک ترجمان نے  وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ جن افراد کو بھی گزشتہ پانچ روز کے دوران ایسی ای میلز ملی ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ ان ای میلز کے ساتھ بھیجے گئے پی ڈی ایف ڈاکومنٹ کسی بھی صورت نہ کھولیں۔ یہ فشنگ ای میلز ہیں، جن کا مقصد وصول کنندگان کا پرسنل الیکٹرانک ڈیٹا چوری کرنا ہے۔میونخ سکیورٹی کانفرنس نے اپنی  ویب سائٹ پر یہ اعلان بھی کیا ہے، اس کانفرنس کے دعوت نامے اور مرکزی پروگرام کی تفصیلات کبھی بھی شرکاء  کو ان کے ذاتی ای میل ایڈریس پر نہیں بھیجے جاتے۔اب تک یہ واضح نہیں کہ ایسے دعوت نامے مجموعی طور پر کتنی شخصیات کو بھیجے گئے ہیں۔

تاہم وصول کنندگان کو یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ایسی جعلی اور خطرناک ای میلز بالکل نہ کھولیں اور انہیں ڈیلیٹ کر دیں۔    روس کے پاس قریب اٹھارہ سو ایسے میزائل ہیں جو ایٹمی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ نیٹو اتحادیوں کے پاس مجموعی طور پر ایسے 2330 میزائل ہیں جن میں سے دو ہزار امریکا کی ملکیت ہیں۔ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس معاملے میں میونخ سکیورٹی کانفرنس کی

انتظامیہ نے ابھی تک پولیس کو باقاعدہ طور پر اطلاع دے کر کوئی مقدمہ درج نہیں کروایا، کیونکہ فی الحال اس ادارے کے اپنے کمپیوٹر ماہرین الیکٹرانک ڈیٹا اور آن لائن ٹریفک کے تجزیے سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ جعلی ای میلز کیسے اور کہاں سے بھیجی جا رہی ہیں۔فروری 2021ء میں ہونے والی میونخ سکیورٹی کانفرنس اپنی نوعیت کا 57 واں سالانہ اجتماع ہو گا۔

اس کانفرنس میں ہر سال دنیا کے درجنوں ممالک کے سربراہان مملکت و حکومت، وزراء  اور بہت سے معروف بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں کے سربراہان شرکت کرتے ہیں۔ عام طور پر اس کانفرنس میں دنیا بھر سے آنے والے تقریبا 500 انتہائی اہم مہمان حصہ لیتے ہیں۔گزشتہ چند عشروں سے یہ سالانہ اجتماع دنیا بھر میں سلامتی امور اور خارجہ سیاسی موضوعات سے متعلق بین الاقوامی سطح پر تبادلہ خیال کے لیے دنیا کے اہم ترین اجتماعات میں سے ایک بن چکا ہے۔

. میونخ سکیورٹی کانفرنس، دعوت نامے احتیاط سے کھولیں کیونکہ ۔۔۔شرکا کو بڑے خطرے سے آگاہ کردیا گیا ..

dadaddadd

اپنا تبصرہ بھیجیں