ن لیگ نے عوام دشمنی میں یہ کام کئے، کیسے سائیکلوں والے ارب پتی ہوئے؟ حقائق سے پردہ اٹھا دیا گیا

اسلام آباد (آن لائن) وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) والے ایسا بیانیہ دیتے ہیں جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں یہ ایسی باتیں کر کے اپنے گناہوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ایسا ہوگا نہیں،چوری کے مقدموں میں نامزد آج قوم کو بھاشن دے رہے ہیں یہ اپنی ایسی حکومتیں چلا چکے ہیں جنہوں نے عوام دشنی کے علاوہ کچھ نہیں کیا،گزشتہ حکومت نے

ہمارے لیے بارودی سرنگیں چھوڑیں، جب حکومت میں آئے تو درآمدات اور برآمدات میں 20 ارب ڈالر سے زائد کا فرق تھا، ہم 20 ارب کے خسارے کو مثبت رقم پر لے کر آئے، ہدف سے زائد ٹیکسز اکھٹے کئے، اب ہمارا خسارہ 8 ارب ڈالر ہو گیا ہے، ہم نے زرمبادلہ کے ذخائر میں 19 ارب ڈالر اضافہ کیا۔اسلام آباد میں پریس کانفرس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ آج عوام کے مفاد کے ٹھیکیدار بننے والے ایسی حکومتیں چلا چکے ہیں جس میں انہوں نے عوام کی جیبیں کاٹنے کے علاوہ ملک کے لیے کوئی کام نہیں کیاجب ان کا اقتدار ختم ہوا اور ہم نے حکومت سنبھالی تو انہوں نے اس بات کو یقینی بنادیا تھا کہ ایسی بارودی سرنگیں چھوڑ دی جائیں جس سے نقصان پہنچ سکے کیوں کہ اقتدار کو تو یہ اپنا خاندانی حق سمجھتے ہیں۔وفاقی وزیر کے مطابق جب انہوں نے اقتدار سنبھالا تو غیر ملکی زر مبادلہ کی صورتحال 6 ہفتوں سے زیادہ تک کی نہیں تھی اس وقت کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20 ارب ڈالر سے زیادہ کا تھا اور قرض 30 کھرب روپے تک پہنچ چکا تھا جس کے صرف سود کی ادائیگی کے لیے بجٹ میں 2 کھرب 90 ارب روپے کی رقم رکھی گئی مسلم لیگ (ن) نے ڈالر کو مصنوعی سطح پر رکھا ہوا تھا جس کے لیے اسحٰق ڈار نے اسٹیٹ بینک کے 23 ارب ڈالر خرچ کیے اور پھر انہیں شاہد خاقان عباسی نے اپنے جہاز میں چھپا کر بیرون ملک فرارکیایہ لوگ اپنے آپ کو کاروباری اور ملک کا خیر خواہ کہتے ہیں

حالانکہ خود اپنے 5 سالہ دور اقتدار میں انہوں نے ایک ڈالر کی برآمدات نہیں بڑھائیں۔شبلی فراز نے کہا کہ ملک کی انڈسٹری تباہ ہوگئی، نئے کارخانے نہیں لگے اور لوگوں نے اپنے کاروبار بیرونِ ملک منتقل کیے جس کی وجہ سے روزگار کی فراہمی، زر مبادلہ کی بچت متاثر ہوئی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ جب ہم نے اقتدار سنبھالا تو ہمارے لیے چیلنج تھا کہ کہاں سے ڈالرز کا بندوبست کیا جائے کہ

قرضوں کی ادائیگی اور درآمدی بل بھی ادا کیا جائے لہٰذا ہم نے زر مبادلہ کے ذخائر کو بڑھانا شروع کیا جو اب 19 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، ایکسچینج ریٹ کو اس لیے ڈی ویلیو کیا کہ ہمارے پاس ڈالرز تھے ہی نہیں کہ مارکیٹ میں مداخلت کر کے ڈالر کی قدر کو برقرار رکھا جاتا اور اگر ہوتے بھی تو ایسا نہیں کرنا چاہیے کیوں کہ اس سے ایکسپورٹ متاثر ہوتی ہے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو بڑی

مشکل سے کم کر کے ایسی سطح پر لے آئے ہیں کہ اس کی صورتحال منفی سے مثبت ہوگیا ہے، علاوہ ازیں ہماری ایکسپورٹ بڑھی، ترسیلات زر بڑھا اور زرمبادلہ کے ذخائر بھی اب بہتر صورت میں ہیں۔انہو ں نے کہا کہ ہم نے ایک سہ ماہی میں ایک ارب روپے ٹیکسز کی مد میں حاصل کیے ہیں جو ہدف سے زیادہ ہے اور مہنگائی کی وجوہات میں سب سے نمایاں پیٹرول کی قیمت ہے جو

ہمارے ہاتھ میں نہیں بجلی مہنگی ہونے کی بنیادی وجہ وہ معاہدے ہیں کہ جو نواز شریف کی حکومت کے مہنگے معاہدے تھے انہوں نے پیداوار پر زور دیا لیکن قابل تجدید توانائی کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کیا گیا کیوں کہ اس میں کمیشن بنانے کے زیادہ مواقع نہیں ہوتے۔انہوں نے مزید کہا کہ آپ نے ملک کی توانائی کو تیل اور مہنگے ایندھن پر منحصر رکھا اور زیادہ سے زیادہ پیداوار کی

وجہ سے کیپیسٹی پیمنٹس اور ان پر سود بڑھا، نہ بجلی کی ترسیل اور نہ ہی تقسیم کار کمپنیوں پر توجہ دی گئی جس کی وجہ سے ٹی این ڈی لاسز بڑھے بجلی کی قیمت میں اضافے کی وجہ یہی معاہدے ہیں، وزیراعظم عمران خان مسلسل کوشش میں ہیں اور اسی لیے پیداواری کمپنیوں سے بات چیت کی گئی، آر ایل این جی کے منصوبے کے بھی ایسے معاہدے ہیں کہ چاہے ضرورت ہو یا نہ ہو 60

فیصد گیس استعمال کرنی ہوگی۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا کوئی محب وطن ایسے معاہدے کر سکتا ہے، اپنے لیے بہت زبردست معاہدے کرتے ہیں ان میں سے اکثر ایسے ہیں جو سائیکلوں پر آئے تھے آج ارب پتی ہوگئے ہیں اور اس کی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے عوام کے مفاد پر ڈاکا ڈالاپیسے جمع کرنا بھی ایک بیماری ہے کہ کئی ارب پتی ہیں لیکن پیسے کی ہوس ان کو ہم سے زیادہ ہے اور

اس بیماری سے مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے اپنے دولت کو بڑھاوا دے کر ملک کو غریب سے غریب تر کیا اور آج ملک کے جو بھی مسائل ہیں وہ اسی کی مرہون منت ہیں۔ایک سوال کے جوا ب میں انہو ں نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی نے گیس کے معاہدے کر کے ہمیں مزید مصیبت میں ڈال دیا کہ مہنگی ترین آر ایل این جی خرید کر پاکستان کو 15 سال کے لیے ایسے باندھ دیا کہ ہلنا بھی چاہیں

تو نہیں ہل سکتے آج ہم معاہدوں سے نکلنا بھی چاہیں تو نہیں نکل سکتے کیوں کہ ہمارے دوست ممالک ان میں شامل ہیں، قصور ان کا نہیں بلکہ قصور ان کا ہے جو مگر مچھ کے آنسو بہا کر ہمدرد بن رہے ہیں یہ انہی کی حکومت تھی جس نے پاکستان کے قدرتی وسائل کو ایکسپلور کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا کیوں کہ جہاں چیزیں درآمد ہوتی تھی اور معاہدے ہوتے تھے ان میں کمیشن بنتے تھے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ اپوزیشن کا خیال تھا کہ کورونا کے باعث پی ٹی آئی کی حکومت چلی جائے گی لیکن کورونا وبا میں پاکستان کی صورتحال دیگر ممالک سے بہتر رہی، بجلی مہنگی ہونے کی وجہ (ن) لیگی حکومت کے مہنگے معاہدے ہیں، یہ ہر معاہدے میں اپنا کمیشن رکھتے تھے، ہم ان کے کمیشن کے پیسے ادا کر رہے ہیں، پیٹرول کی قیمت ہمارے کنٹرول میں نہیں ہوتی، پیٹرول

سے متعلق عالمی قیمتوں کو دیکھ کر فیصلہ کیا جاتا ہے اپوزیشن نے اپنے دور حکومت میں ملک کو اپنی جاگیر سمجھا ہوا تھا، اور ذاتی مفادات کیلئے ہر طرح کے فائدے اٹھائے، چوری کے مقدموں میں نامزد آج قوم کو

بھاشن دے رہے ہیں، چوری کے ذریعے حاصل کی گئی دولت کو تحفظ دینے کی کوشش کررہے ہیں، انہوں نے قوم کے مستقبل کو گروی رکھ دیا، نیب اپوزیشن کے پیچھے اس لئے ہے کیوں کہ انہوں نے کرپشن کی۔

. ن لیگ نے عوام دشمنی میں یہ کام کئے، کیسے سائیکلوں والے ارب پتی ہوئے؟ حقائق سے پردہ اٹھا دیا گیا ..

dadaddadd

اپنا تبصرہ بھیجیں