مولانا ڈاکٹر عادل خان کی شہادت المناک قومی سانحہ قرار، معروف عالم دین کی زندگی کے چند پہلو

کراچی(این این آئی) کراچی میں افسوسناک واقعہ میں جاں بحق ہونے والے ممتازمذہبی اسکالراورجامعہ فاروقیہ کے مہتمم مولانا ڈاکٹر عادل خان اور ان کے ڈرائیور کو سپردخاک کردیا گیا۔قبل ازیں ان کی نمازجنازہ جامعہ فاروقیہ حب ریور روڈ فیز2 میں مولاناعادل خان شہید کے بڑے بھائی مولانا عبیداللہ خالد کی امامت میں ادا کی گئی۔ جس میں شرکت کے لیے شہر بھرسے لوگ قافلوں کی صورت

میں پہنچے۔نماز جنازہ میں شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی، مفتی محمد رفیع عثمانی، مولانا حنیف جالندھری، سینیٹر عبدالغفور حیدری، مولانا راشد سومرو، مہتمم جامعہ بنوریہ مفتی نعمان اور حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کے علاوہ علمائے کرام، سیاسی شخصیات، مدارس کے طلبہ، عقیدت مندوں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔نماز جنازہ کے موقع پر حب ریور روڈ کے اطراف سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیئے گئے تھے،جامعہ کے اندر طلبہ اور اطراف میں پولیس اوررینجرز کی بڑی تعداد تعینات کی تھی۔جبکہ نماز جنازہ کے شرکاء نے مطالبہ کیاکہ قاتلوں کو فوری گرفتار کیا جائے۔مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان کی عمر 63 سال تھی، وہ عالم اسلام کی معروف علمی شخصیت شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان کے بڑے صاحب زادے تھے۔ مولانا عادل کو گزشتہ روز کراچی کے علاقے شاہ فیصل کالونی نمبر 2 میں واقع شمع شاپنگ سینٹر کے قریب نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔1973 میں دینی درس گاہ جامعہ فاروقیہ سے ہی انھوں نے سندِ فراغت حاصل کی، کراچی یونی ورسٹی سے 1976 میں بی اے ہیومن سائنس، 1978 میں ایم اے عربی اور 1992 میں اسلامک کلچر میں پی ایچ ڈی کی۔مولانا ڈاکٹر عادل خان کو اردو، انگلش اور عربی سمیت کئی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ وہ بہترین معلم، خطیب اور ادیب

ہونے کے ساتھ ساتھ علوم القرآن، علوم الحدیث، تعارف اسلام، اسلامی دنیا، اسلامی معاشیات اور اخلاقیات، فقہی مسائل، آیات احکام القرآن اور احکام فی الاحادیث، مقاصد شریعہ، تاریخ اسلام، خاص کر تاریخ پاکستان اور اردو اور عربی ادب جیسے موضوعات میں دلچسپی رکھتے تھے۔1980سے اردو، انگلش اور عربی میں چھپنے والے رسالے الفاروق کے ایڈیٹر تھے، تحریک سوادِ اعظم میں

اپنے والد مولانا سلیم اللہ خان کے شانہ بشانہ رہے، 1986 سے 2010 تک جامعہ فاروقیہ کراچی کے سیکرٹری جنرل رہے اور اسی دوران آپ نے اپنے والد سے مل کر جامعہ کے بہت سے تعلیمی و تعمیری منصوبوں کی تکمیل کی۔وہ کچھ عرصہ امریکا میں بھی مقیم رہے اور وہاں ایک بڑا اسلامی سینٹر قائم کیا، ملائیشیا کوالالمپور کی مشہور یونیورسٹی میں 2010 سے 2018 تک کلی معارف

الوحی اور انسانی علوم میں بطور پروفیسر خدمات انجام دیں۔ 2018 تصنیف و تحقیق میں ملائیشیا ہائر ایجوکیشن کی جانب سے فائیو اسٹار رینکنگ ایوارڈ سے نوازا گیا، یہ ایوارڈ ملائیشیا کے صدر نے انھیں دیا۔وفاق المدارس المدارس العرابیہ کی مرکزی کمیٹی کے سینئر رکن اور وفاق المدارس کی مالیات، نصابی اور دستوری کمیٹی جیسی بہت سی اہم کمیٹیوں کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں۔

انھوں نے پس ماندگان میں مولانا مفتی محمد انس عادل، مولانا عمیر، مولانا زبیر، مولانا حسن، ایک بیٹی، ایک بیوہ، دو بھائی مولانا عبیداللہ خالد اور عبدالرحمن کو سوگوار چھوڑا۔ ان کے دو بیٹے مولانا زبیر اور مولانا حسن اور ایک بیٹی ملائیشیا میں مقیم ہیں۔ وہ بھی ملائیشیا میں مقیم تھے لیکن 2017 میں والد مولانا سلیم اللہ خان کے انتقال کے بعد پاکستان واپس آئے اور دینی درس گاہ جامعہ فاروقیہ کی

دونوں شاخوں کا نظم و نسخ سنبھالا اور شیخ الحدیث کے عہدے پر فائز ہوئے۔بعد ازاں جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل اپنے بھائی مولانا عبیداللہ خالد کے حوالے کر کے اپنی تمام تر توجہ جامعہ فاروقیہ حب چوکی پر مرکوز کی جس کو وہ ایک جدید خالص عربی تعلیمی ادارہ اور یونیورسٹی بنانا چاہتے تھے، آپ جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کے سرپرست اور جامعہ فاروقیہ حب چوکی کے مہتمم تھے۔ دوسری

جانب شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے کہا ہے کہ مولانا ڈاکٹر عادل خان کی شہادت المناک قومی سانحہ ہے، ظالموں نے ہمیں ایسی شخصیت سے محروم کردیا جس سے روشن امیدیں وابستہ تھیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ میں جاری بیان میں مفتی محمد تقی عثمانی نے کہا کہ مولانا عادل خان نے ایک طرف ناموس صحابہ کے لئے باغیرت قائد کا فریضہ انجام دیا دوسری طرف

وہ با اصول قومی وحدت کے لئے کوشاں تھے اللہ تعالی انہیں جوار رحمت میں جگہ دے۔ یہ مجرمانہ قتل دراصل ملک میں بدامنی اور خانہ جنگی کی آگ بھڑکانے کی سازش ہے ہم سب کا فرض ہے کہ صبروتحمل اور دانشمندی کے ساتھ انتقام در انتقام کی اس سازش کو ناکام بنائیں اور حکومت کا فرض ہے کہ قاتلوں کو فورا گرفتار کرکے اس قسم کی ممکنہ آگ بجھائیں۔

. مولانا ڈاکٹر عادل خان کی شہادت المناک قومی سانحہ قرار، معروف عالم دین کی زندگی کے چند پہلو ..

dadaddadd

اپنا تبصرہ بھیجیں