سینکڑوں اساتذہ کے گھر بیٹھے تنخواہیں لینے  کا  انکشاف ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کو فوری کارروائی ا حکم

کوئٹہ(آن لائن) بلوچستان کے ضلع پشین میں سینکڑوں اساتذہ کے گھر بیٹھے تنخواہیں لینے کے انکشاف پر ڈپٹی کمشنر کا شدید اظہار برہمی ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کو فوری کارروائی ا حکم دے دیاواضح رہے کہ بلوچستان میں کافی عرصے سے اساتذہ کے ڈیوٹیوں سے مسلسل غیر حاضر رہنے اور گھر بیٹھے تنخواہیں لینے کی شکایات عام رہی ہیں ۔ غیر حاضر اساتذہ کے خلاف

تادیبی کارروئی اور دیگر اقدامات کی بدولت اب صورتحال بہتر ہونے لگی ہے تاہم حال ہی میں صوبائی دارالحکومت سے متصل ضلع پشین میں سینکڑوں اساتذہ کے گھر بیٹھے تنخواہیں لینے کے انکشاف نے تعلیمی شعبے میں اصلاحات کے عمل پر سوالات اٹھادیئے ہیں محکمہ تعلیم پشین آفس کے ذرائع کے مطابق کافی عرصے سے غیر حاضر اساتذہ کی شکایات محکمے کو موصول ہورہی تھیں جن میں اکثر خواتین اساتذہ شامل ہیں گزشتہ دنوں ڈپٹی کمشنر قائم لاشاری کی ہدایت پر محکمے نے چھان بین کی تو انکشاف ہوا کہ عوامی شکایات بجا ہیں اور سینکڑوں اساتذہ جن میں اکثریت خواتین کی ہے ایک دن کے لئے بھی سکول نہیں آتے مذکورہ ذرائع کے مطابق عرصہ دراز سے غیر حاضر اساتذہ بااثر گھرانوں سے تعلق رکھتی ہیں اور عرصہ دراز سے عوامی شکایات کے باوجود ان کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی عمل میں نہیں آئی نہ ہی انہیں ڈیوٹی کا پابند بنایا گیا۔ مذکورہ ذرائع کے مطابق ابتدائی تفصیلات سامنے آنے پر ڈپٹی کمشنر نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کے اجلاس میں شدید برہمی کا اظہار کیا اور متعلقہ حکام کو کو فہرستیں مرتب کرنے اور فوری کاروائی کی ہدایت کی ہے اب ڈی ای او آفس عملہ اس ضمن میں مزید اقدامات اٹھارہا ہے ابتدائی طور پر متعلقہ اداروں کے سربراہان کو تاکیدی اور تنبیہی نوٹسز کا اجراکیا جارہا ہے جس کے بعد مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ پشین کے عوامی حلقوں اور شہریوں نے ڈپٹی کمشنراور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے ضلع کی تعلیمی پسماندگی کے خاتمے اور تعلیمی اہداف کے حصول میں خاطر خواہ مدد اور معاونت ملے گی۔

. سینکڑوں اساتذہ کے گھر بیٹھے تنخواہیں لینے  کا  انکشاف ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کو فوری کارروائی ا حکم ..

dadaddadd

اپنا تبصرہ بھیجیں