آپ ووٹ کو عزت دو کو مانتے ہیں یا پھر مفاہمت کی سیاست کو“ اے پی سی میں شرکت کے وقت صحافی کے چبھتے ہوئے سوال پر شہباز شریف نے کیا جواب دیا ؟ جانئے

لاہور (ویب ڈیسک )آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کیلئے پیپلز پارٹی کے بعد اب ن لیگ کا وفد بھی پہنچ چکا ہے اور اس سے قبل پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی قیادت کے درمیان کچھ معاملات پر مشاورت کیلئے رابطہ بھی ہواہے ۔تفصیلات کے مطابق ن لیگ کے وفد میں شہبازشریف ، مریم نواز اور خواجہ سعد رفیق سمیت دیگر اہم اراکین شامل ہیں ،

آل پارٹیز میں شرکت کیلئے پہنچنے پر صحافیوں نے شہبازشریف سے سوال کیا کہ ” شہبازشریف آپ ووٹ کو عزت دو کو مانتے ہیں یا پھر مفاہمت کو ؟ اپوزیشن لیڈر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ” آپ جس مرضی کو سمجھ لیں “۔اس موقع پر مریم نوازشریف بھی ہمراہ تھیں اور صحافی کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ” کانفرنس میں دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔“ آج کی اے پی سی میں آصف زرداری کے بعد نوازشریف شرکاءسے ویڈیو لنک کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کریں گے ۔ آل پارٹیز کانفرنس کی میزبانی کے فرائض پیپلز پارٹی انجام دے رہی ہے ۔آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت سے جماعت اسلامی نے صاف انکار کر دیاہے جبکہ بی این پی کے اختر مینگل بھی خراب طبیعت کے باعث شریک نہیں ہوں گے اور ان کی جگہ پارٹی کا وفد نمائندگی کرے گا ۔دوسری جانب نوازشریف بھی ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیلئے حسین نواز کے لندن میں قائم دفتر میں پہنچ چکے ہیں ۔دوسری جانب سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ عمران خان ہمارا ہدف نہیں ہے ، ہمارا مقابلہ عمران خان سے نہیں ہے ، الیکشن سے پہلے بھی کہا اور آج بھی کہہ رہاہوں ، ہماری جدو جہد عمران خان کو لانے والوں کے خلاف ہے ، اور ان کے خلاف ہے ، ملک کو برباد کر دیا .آل پارٹیز کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے نوازشریف کا کہناتھا کہ ہماری اولین ترجیح سلیکٹڈ حکومت اور ا س سے کئی زیادہ اہم اس نظام سے نجات حاصل کرناہے جس کا میں نے ذکر کیاہے ، عمران خان ہمارا ہدف نہیں ہے ، ہمارا مقابلہ عمران خان سے نہیں ہے ، الیکشن سے پہلے بھی کہا اور آج بھی کہہ رہاہوں ، ہماری جدو جہد عمران خان کو لانے والوں کے خلاف ہے ، اور ان کے خلاف ہے ، ملک کو برباد کر دیا ، یہ ملک ہمیں تمام چیزوں سے زیادہ عزیز ہے ، جس میں اچھی شہرت کے حامل جج صاحبان کو بھی نشانہ بنالیا گیاہے ، یہ نااہل اور ظالمانہ نظام ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا دے گا ، ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ہمارے دشمنوں کے عزائم کیا ہیں انہیں ناکام بنانے کیلئے معیشت کے ساتھ مضبوط دفاعی نظام کی بھی ضررورت ہے ، ہم نے پہلے بھی اس ملک کو ایٹمی قوت بنایا ہے ، ہماری قومی سلامتی کیلئے ضروری ہے کہ معیشت کے ساتھ مسلح افواج کو بھی مضبوط سے مضبوط بنائیں ، اس کام میں ماضی میں کوئی کثر نہیں چھوڑی اور آئندہ بھی ہماری یہ ترجیح رہی گی ، قومی سلامتی کیلئے سب سے اہم یہ ہے کہ ہماری مسلح افوا ج آئین پاکستان ،دستوری حلف اور قائد اعظم کی تلقین کے مطابق خود کو سیاست سے دور رکھیں اور عوام کے حق حکمرانی میں مداخلت نہ کریں ۔

dadaddadd

اپنا تبصرہ بھیجیں