سٹیل مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان

کراچی(آن لائن)عالمی مارکیٹ میں اسکریپ کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مقامی اسٹیل مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے۔عالمی مارکیٹ میں اسکریپ کی قیمت اکتوبر 2020کی 350ڈالر فی ٹن کے مقابلے میں اس وقت 455ڈالر فی ٹن تک پہنچ گئی ہے۔ اسکریپ کی قیمتوںمیں اضافے اور حکومت کی طرف سے

بجلی کی قیمتوں میں حالیہ 10فیصد اضافے سے مقامی اسٹیل کی قیمت 150,000روپے فی ٹن سے تجاوز کرسکتی ہے۔انڈسٹری ذرائع کے مطابق اگر حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں کمی اور کاروباری ٹیکس میں کمی لانے کیلئے اقدامات نہ کئے تو اسٹیل کی قیمتوں میں اضافہ حکومت کی جانب سے تعمیراتی صنعت کی حوصلہ افزائی کیلئے کئے گئے اقدامات کی حوصلہ شکنی کرسکتاہے۔ذرائع کا کہنا ہے حکومت کو اسٹیل کی انڈسٹری کی بحالی کیلئے ہنگامی طورپر اقدامات کرنا ہوں گے۔ انڈسٹری ذرائع کا کہنا ہے کہ انڈسٹری ایک طرف توبین الاقوامی سطح پراسکریپ کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کا مقابلہ کررہی تھی تو دوسری طرف حکومت نے بجلی کی قیمتوں میں 10فیصد اضافہ کردیا۔پاکستان ایسوسی ایشن آف لارج اسٹیل پروڈیوسرزکے سیکریٹری جنرل واجد بخاری نے کہاہے کہ چین میں اسکریپ کی ڈیمانڈ میں سالانہ 12ملین ٹن اضافے کی وجہ سے عالمی سطح پر اسکریپ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بجلی کی قیمتوں میں 4روپے فی یونٹ اضافہ نوزائیدہ پاکستانی اسٹیل انڈسٹری کیلئے تباہ کن ہونے کے ساتھ ساتھ کم اور درمیانی آمدنی والے لوگوں کیلئے سستی رہائش کے حکومتی منصوبے کیلئے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان ایسوسی ایشن آف لارج اسٹیل

پروڈیوسرزکے زیادہ ممبران کے الیکٹرک کے بڑے صارفین میں سے ہیں۔ اس سلسلے میں ایسوسی ایشن نے 12فروری کو ایس آر او نمبر 192کے ذریعے جاری ہونے والے ٹیرف میں اضافے پر سخت احتجاج ریکارڈ کرایاہے اور اس سے ملکی اسٹیل انڈسٹری میں بحران پیداہورہا ہے۔ اس ایس آر او کے ذریعے متغیر چارجز کی مد

میں ایک روپے 95پیسے فی کلو واٹ اورفکسڈ چارجز کی مد میں 40روپے فی کلو واٹ فی مہینہ اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کو فکسڈ چارجز میں اضافہ کرنے کے بجائے اسے کم کرناچاہیے۔ پاکستان میں ڈسٹری بیوشن سسٹم کی تمام لاگت (گرڈ، کیبل، سب اسٹیشن، ٹرانسفارمر وغیرہ)صارفین کو براداشت کرنی پڑتی ہے تو پھر

صارف کو بجلی کے کنکشن کیلئے بھاری فکسڈ چاجز کیوں ادا کرنے پڑرہے ہیں۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ٹیرف میں تبدیلی پر دوبارہ غور کرنا چاہیے اورانہیں بہتر طریقے سے نافذ کرنا چاہیے۔ بنگلہ دیش میں B4صارفین کیلئے(DPDC) فکسڈ چارجز 70.92امریکن سنٹ ہیں جبکہ حالیہ اضافے کے بعد پاکستان میں یہ 250امریکن

سنٹ ہیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ علاقائی حریفوں کے مقابلے میں پاکستان میںٹیرف 350فیصد زیادہ ہے۔ پاکستان ادارہ شماریات کے مطابق2020میں پاکستان میں آئرن اور اسٹیل اسکریپ کی درآمدات میں گزشتہ سال کے مقابلہ میں 13.5فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ لوہے اور اسٹیل کی اسکریپ کی درآمدات 4.02ملین ٹن سے بڑھ کر 4.57ملین

ٹن ہوگئی ہیں۔انڈسٹری طویل عرصے سے حکومت سے مطالبہ کررہی ہے کہ 1.5فیصد ٹرن اوور ٹیکس کم کرکے 0.25فیصد کیا جائے۔ ہم طویل عرصے سے اس مسئلے کے حل کیلئے کوشاں ہیں اور اصولی طورپر اس مسئلے پر اتفاق رائے پایاگیا ہے کہ شدید متاثر دستاویزی شعبے پر یہ ایک غیر منصفانہ ٹیکس ہے ۔ اس سلسلے میں

حکومت کا کہنا ہے کہ آئندہ بجٹ میں اس مسئلے پر توجہ دی جائے گی لیکن ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اس وقت تک انڈسٹری کیلئے بہت زیادہ دیر ہوجائے گی۔ حکومت نے چینی، سیمنٹ اور خوردنی تیل کے ایسے ڈیلروں اور ذیلی ڈیلروں جن کے نام سیلز ٹیکس ایکٹ 1990اور انکم ٹیکس آرڈیننس 2001کے تحت جاری کردہ ٹیکس دہندگان

کی فہرست میں شامل ہیں کیلئے پہلے ہی ایک آرڈیننس کے ذریعے کم سے کم ٹیکس کی شرح میں0.25فیصد کردی ہے اور اب خصوصی طور پر کنزیومر گڈز، کھاد ، چینی، سیمنٹ اورخوردنی تیل کے تھوک اور خوردہ فروشوں کو بھی اس زمرے میں شامل کرلیا گیا ہے ۔واضح رہے کہ اسٹیل کی صنعت نہایت کم مارجن پر کام کرتی ہے ۔ اس

لئے کم سے کم ٹیکس کی موجودہ شرح نہ صرف مینوفیکچرز کے کیش فلوز پر بوجھ ہے بلکہ یہ مستقبل میں اس صنعت میں آنے والی سرمایہ کاری اور اسٹیل لین دین کے دستاویزاتی عمل کی بھی حوصلہ شکنی کرے گی۔اس سے ایف بی آر کو بھی نہایت کم آمدنی حاصل ہوتی ہے کیونکہ ڈائون اسٹریم اسٹیل صنعت کی بڑی تعداد ابھی تک غیر

دستاویزی ہے۔ذرائع کے مطابق ایک اور بڑا مسئلہ جو دستاویزی اسٹیل کی صنعت کو درپیش ہے وہ غیر مساوی ٹیرف ہے کو اس شعبے میں غیر منصفانہ مسابقت پیدا کررہی ہے۔ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ فاٹا/پاٹا کو دی جانے والی کچھ مراعات کے ناجائز استعمال سے قومی خزانے کو سالانہ 10سے 15ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے اور

اس کی زد میں پورا اسٹیل سیکٹر آتا ہے۔ اسی طرح کسٹم قوانین میںموجود خامیوں کی وجہ سے نئے اسٹیل رول کو پرانے اسٹیل رول ظاہر کر کے اربوں روپے کا ٹیکس چوری کیا جاتا ہے۔ ان تمام عوامل نے اسٹیل کے شعبے میں ایک بحران کی سی کیفیت پیدا کررکھی ہے۔ پاکستان ایسوسی ایشن آف لارج اسٹیل پروڈیوسرز کے چیئر میں میڈیا

حسین آغا نے کہاہے کہ 2019-20کے بجٹ میں ایف بی آر نے اسٹیل کے شعبے کو دی جانے ولی خصوصی حکومتی مراعت ختم کردی جس سے ٹیکس چوری کے راستے ہموار ہوئے اوردستاویزی صنعت کے مقابلے میں ٹیکس چوروں کو فائدہ ہوا۔ انہوںنے مزید کہا کہ نیا ہائوسنگ پراجیکٹ کو کامیاب بنانے کیلئے حکومت کو اس منصوبے پر لاگو 17فیصد ٹیکس کو فوری طور پر ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری توجہ

پاکستان کو سپورٹ فراہم کرنا اور نیا پاکستان ہائوسنگ پراجیکٹ کیلئے ڈرائیونگ فورس بننا ہے۔ تاہم علاقائی سطح پر غیر معمولی طور پر سب سے زیادہ توانائی کے نرخوں ، اسٹیل کی صنعت کیلئے ٹیکس کے نرخ میں اضافہ اور اسٹیل کی مصنوعات کیلئے ٹیکس کے نرخ دوسرے ممالک کے مقابلے میںدوگنا ہونے کی وجہ سے یہ ایک مستقل جدو جہد بن جائے گی ۔ہمیں اس کا حل تلاش کرنا ہوگا بصورتِ دیگر ہمیں خدشہ ہے کہ قیمتیں قابو سے باہر ہوجائیں گی۔

. سٹیل مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ..

dadaddadd

اپنا تبصرہ بھیجیں