بریکنگ نیوز: دراڑ پڑگئی۔۔!! اے پی سی اجلاس، شہباز شریف نواز شریف کے خطاب کے حق میں کیوں نہیں تھے؟ اصل تفصیلات سامنے آگئیں

لاہور (ویب ڈیسک) اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور شاہد خاقان عباسی سمیت ن لیگ کی اہم قیادت نواز شریف کے اے پی سی سے وڈیو لنک خطاب کے حق میں نہیں تھی۔ اسلام آباد میں قائد حزب اختلاف کی رہائش گاہ پر پارٹی قیادت کا اجلاس ہوا جس میں ایاز صادق، احسن اقبال اور

دیگر رہنما شریک تھے ان کا خیال تھا کہ نواز شریف کی اے پی سی میں تقریر سے عدالتی کارروائی پر برا اثر پڑ سکتا ہے، مخالف وکیل یہ نکتہ اٹھا سکتا ہے کہ نواز شریف صحت مند ہیں اور تقریریں کر رہے ہیں وہ عدالت میں پیش کیوں نہیں ہو رہے؟ شہباز شریف کی قیادت میں 3رکنی لیگی وفد نے صرف دو روزقبل دیگر جماعتوں کی پارلیمانی رہنماؤں کے ساتھ گلگت بلتستان کے حوالے سے عسکری قیادت سے ملاقات بھی کی تھی۔ لیگی قیادت کا یہ بھی خیال تھا کہ نواز شریف کی تقریر سے مفاہمتی عمل بھی متاثر ہوسکتا ہے۔ نواز شریف اور آصف زرداری کا اے پی سی سے وڈیو لنک خطاب دراصل مریم نواز اور بلاول بھٹو کا آئیڈیا تھا وہ دونوں اے پی سی کے معاملے پر مسلسل رابطے میں تھے۔ ن لیگ میں آخری وقت تک نواز شریف کی تقریر کے فیصلے کو ہوا نہ لگنے دی گئی۔ مریم نواز تقریر کے معاملے پر نواز شریف کو سپورٹ کر رہی تھیں۔نواز شریف کی مداخلت پر مریم نواز ، رانا ثناء اللہ، سعد رفیق، پرویز رشید کو لیگی میں شامل کیا گیا۔ شیخ رشید نے کہا کہ نواز شریف نے جونیجو کی کمر میں چھرا گھونپا اور پھر خود آکر حکومت بنائی۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اپنے بھائی شہباز شریف کی سیاسی کشتی میں پتھر پھینکنے ہیں، اپوزیشن دھرنا نہیں دے گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ مریم نواز کا ٹوئٹر ایک سال بند رہا، انہیں توقع تھی کہ شاید صاحبزادی کو لندن جان کی اجازت مل جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن چاہتی ہے کہ عمران خان کو سینیٹ میں اکثریت حاصل نہ ہو لیکن مارچ کے انتخابات میں پی ٹی آئی سینیٹ میں اکثریتی جماعت ہوگی۔ شیخ رشید نے دعویٰ سے کہا کہ پیپلز پارٹی کبھی بھی سندھ اسمبلی سے استعفیٰ نہیں دے گی۔

dadaddadd

اپنا تبصرہ بھیجیں