اہم سیاسی رہنماء نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو وزیر اعظم کی ’ شکایت‘ لگا دی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے اہم سیاست دانوں نے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے گلگت بلتستان اور کشمیر کے ایشو پر موخر الذکر کی درخواست پر 16 ستمبر کو ملاقات کی۔انہوں نے

مزید کہا کہ اپوزیشن رہنماؤں میں سے ایک نے آرمی چیف کو بتایا کہ اس قومی اہمیت کے حامل معاملے پرایسی ملاقات وزیراعظم کو بلانا چاہئیے تھی۔اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ وزیراعظم قومی اہمیت کے حامل معاملات پر اپوزیشن کے ساتھ مل بیٹھ کر بات نہیں کرتے۔سراج الحق نے مزید کہا کہ عسکری قیادت چاہتی ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو آئینی حیثیت دی جائے جو کئی برسوں سے مطالبہ کر رہے ہیں۔اجلاس میں یہ تجویز سامنے آئی ہے کہ جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہو جاتا۔اس وقت تک گلگت بلتستان کو ’عبوری صوبہ ‘بنانے کا اعلان کیا جائے۔سراج الحق نے یہ بھی انکشاف کیا کہ عسکری قیادت کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے پر جماعت اسلام کا موقف جانتی ہے۔جب کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کا اصرار کہ یہ معاملہ فی الحال چھوڑ دیا جائے اور گلگت بلتستان میں آئندہ الیکشن کے بعد زیر بحث لایا جائے۔تاکہ اس معاملے کو کوئی بھی سیاسی جماعت انتخابی مہم کاحصہ نہ بنا سکے۔واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے عکسری قیادت سے پارلیمانی لیڈرز کی ملاقات ہوئی تھی۔اس ملاقات میں آرمی چیف نے فوج کو سیاست سے دور رکھنے پر زور دیا ہے۔اس حوالے سے شیخ رشید نے کہا ہے کہ شہباز شریف کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ نواز شریف اے پی سی سے خطاب میں کیا بات کریں گے نواز شریف نے تمام راستے بند کر دئیے ہیں۔ شیخ رشید نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے اسمبلیوں سے استعفوں پر زور دیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم نواز شریف کو استعفے پیش کر دیتے ہیں۔

dadaddadd

اپنا تبصرہ بھیجیں