الیکشن کی رات خواجہ آصف کا آرمی چیف کو ٹیلی فون، جنرل قمر جاوید باجوہ نے لیگی رہنماء کوکیا یقین دہانی کروائی تھی؟ جانیئے

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ نواز شریف کی تقریر اداروں کے خلاف تھی۔ انہوں نے اپنی سیاست کا صفحہ پھاڑ دیا ہے جبکہ شہباز شریف کی کشتی میں بھی پتھر ڈال دئیے ہیں۔ تقریر سے مسلم لیگ ن میں بڑی ہلچل ہے مزید دراڑیں پڑیں گی۔

پارلیمانی لیڈرز سے ملاقات میں آرمی چیف نے فوج کو سیاست سے دور رکھنے پر زور دیا ہے۔پیر کے روز نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا ہے کہ شہباز شریف کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ نواز شریف اے پی سی سے خطاب میں کیا بات کریں گے نواز شریف نے تمام راستے بند کر دئیے ہیں۔ شیخ رشید نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے اسمبلیوں سے استعفوں پر زور دیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم نواز شریف کو استعفے پیش کر دیتے ہیں۔وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ سیاسی رہنماوں سے ملاقات کے دوران عسکری قیادت نے مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے کو دو ٹوک جواب دیا۔مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے نے جب زیادہ شکوے شکایتیں کیں تو انہوں نے جواب دیا گیا کہ جب آپ کے والد کے صدارت کے الیکشن کیلئے ووٹ درکار ہو تو اسمبلیاں حلال ہو جاتی ہیں، اور جب اپنا کوئی فائدہ نظر نہ آئے تو پارلیمنٹ حرام لگنے لگتی ہے۔ایک انٹرویو میں شیخ رشید احمد نے کہا کہ آرمی چیف سے ملاقات کے دوران شرکاء میں سے ایک کو کہا گیا کہ آپ نے الیکشن کی رات فون کیا۔شیخ رشید نے کہا کہ عکسری قیادت کو فون کرنے والے پارلیمنٹیرین کا نام خواجہ آصف ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس فون پر عکسری قیادت نے خواجہ آصف سے کہا کہ دھاندلی نہیں ہو گی اور پھر خواجہ آصف جیتے۔وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کا کہنا ہے کہ عسکری قیادت سے ملاقات میں اپوزیشن رہنماؤں نے نیب کے کیسز کے سوا کسی معاملے پر تحفظات کا اظہار نہیں کیا۔عسکری قیادت کی پارلیمانی رہنماؤں سے ملاقات میں شہباز شریف، بلاول بھٹو، سراج الحق سمیت عوامی نیشنل پارٹی(اے این پی) اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے رہنما بھی شریک تھے۔ آرمی چیف نے واضح کردیا کہ چیئرمین نیب اور الیکشن کمشنر آپ لگاتے ہیں، آپ کا فرض ہے دیکھیں ٹھیک بندہ لگایاہے یا غلط۔ شیخ رشید نے کہاکہ آرمی چیف نے اپوزیشن رہنماؤں سے کھل کر کہا کہ فوج کو مداخلت کا کوئی شوق نہیں،کل آپ کی منتخب حکومت ہوئی تو اٴْس کے بھی ساتھ ہوں گے، آپ اپنے انتظامات ٹھیک کریں، پولنگ اسٹیشن کے باہر فوجی اس لیے کھڑے ہوتے ہیں کہ آپ بلاتے ہیں، آپ لڑتے جھگڑتے ہیں۔

dadaddadd

اپنا تبصرہ بھیجیں