ڈان لیگ والی ٹیم پارٹی پر حاوی ہوگئی! نبھارتیوں کے ہاتھوں میں کھیلنا شروع کر دیا

لاہور(ویب ڈیسک) سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہیٰ نے کہا ہے کہ پاک فوج ملکی سلامتی اور استحکام کی ضامن ہے۔ نوازشریف کی تقریر ملک دشمنی کی بدترین مثال تھی۔چودھری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ ڈان لیکس والی ٹیم پارٹی پر حاوی ہو چکی ہے۔ ثابت ہو گیا کہ لیگی قائد

آج بھی بھارت کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔انہوں نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ فوج پاکستان کی سلامتی اور استحکام کی ضامن ہے۔ پاک فوج آئینی ادارہ ہے اور اس آئینی حیثیت میں وہ حکومت کے ساتھ جو تعاون کرتا ہے وہ بھی آئینی عمل ہے۔چودھری پرویز الہیٰ نے کہا کہ نواز شریف اس آئینی عمل کی مخالفت کرکے آئین شکنی کے مرتکب ہوئے ہیں جو قابل افسوس اور قابل مذمت بھی ہے۔ انہوں نے انھیں مشورہ دیا کہ وہ کام نہ کریں جو سربراہ ایم کیو ایم نے کیا تھا۔ نواز شریف ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے، ان کا انجام بھی اپنے ذہن میں رکھیں۔سپیکر نے کہا کہ ابھی کچھ ہی دن پہلے آرمی چیف نے بھارت کے خطرناک عزائم کو بھانپتے ہوئے پاک فوج کو بھی جنگی تیاریاں تیز کرنے کا حکم دیا تھا۔ عین اس دوران نواز شریف کی طرف سے اپنی ہی فوج کے خلاف اعلان جنگ ملک دشمنی کی بدترین مثال ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بھارتی ذرائع ابلاغ نے میاں نواز شریف کے فوج دشمن بیان پر شادیانے بجائے اور ان کو ہاتھوں ہاتھ لیا ہے۔اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے سیاستدانوں کے بجائے فوج کو ہدف بنایا۔،نواز شریف سیاستداںوں کے نہیں فوج کے خلاف ہیں۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف ہر دفعہ اقتدار ملنے کے بعد فوج سے لڑائی اور اداروں کو کمزور کیا۔نواز شریف کو بطور وزیراعظم قومی استحکام اور ملکی سلامتی پیدا کرنا چاہئیے تھا جو انہوں نے کیا۔

جن مشیروں نے تقریر لکھی انہوں نے ایک مرتبہ پھر نواز شریف کے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے۔نواز شریف نے سیاستدانوں کے نہیں فوج کے خلاف ہیں۔انہوں نے اپنی تقریر میں رگنگ کا حوالہ دیا۔نواز شریف اپنے حق میں کی گئی رگنگ بھول گئے۔نواز شریف نے 1990 کے الیکشن میں دن بارہ بجے خود ہی رزلٹ کا اعلان کر دیا ہے جب کہ الیکشن کمیشن نے شام کو اعلان کرنا تھا۔اس وقت نواز شریف نے ہی الیکشن کمیشن کو درخواست کی تھی کہ فوج الیکشن کی ذمہ داری لے۔اس وقت فوج اچھی تھی اب بری ہو گئی ہے۔چوہدری شجاعت حسین نے مزید کہا کہ نواز شریف کے مطابق ملک کو لیبارٹری بنا دیا گیا ہے جب کہ اس لیبارٹری کی بنیاد انہوں نے خود رکھی تھی۔نواز شریف نے اداروں پر انتخابات کو ہائی جیک کر ے اور بدنیتی کا الزام لگایا،یہی کام وہ خود وزیراعظم بننے کے لیے کر چکے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ چئیرمین نیب پر بات کرنے سے پہلے سوچنا چاہئیے تھا کہ ان کی نامزدگی خود نواز شریف نے ہی کی تجھی۔فیصلے نواز شریف نے نہیں بلکہ عوام نے کرنے ہیں اور اب عوام دوبارہ بد نیتی کے فیصلوں کو قبول نہیں کرے گی۔واضح رہے کہ گذشتہ روز سابق وزیراعظم نواز شریف نے ویڈیو لنک کے ذریعے اے پی سے خطاب کیا ۔ اے پی سی پر نواز شریف کا خطاب دیکھنے اور سننے کیلئے بڑی سکرین کا اہتمام کیا گیا۔ سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی جدوجہد عمران خان کے خلاف نہیں ان کو اقتدار میں لانے والوں کے خلاف ہے ۔ نواز شریف کی تقریر سے سیاسی میدان میں ایک ہلچل مچ گئی ہے۔

dadaddadd

اپنا تبصرہ بھیجیں