وہی ہوا جو ہمیشہ ہوتا آیا ہے ۔۔۔ سانحہ بلدیہ فیکٹری کے فیصلے پر حکومت نے حیرا ن کن رد عمل دے دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کے فیصلے پر اپنے ردعمل میں کہا ہےکہ فیصلے سے ثابت ہوتا ہے آگ لگناحادثہ نہیں ٹیرارزم اور مجرمانہ کارروائی تھی۔ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں علی زیدی کا کہنا تھا کہ سانحہ بلدیہ فکیٹری کیس پر آج کے عدالتی فیصلے سے لواحقین کا کچھ مداوا ہوا ہوگا

جنہوں نے 8 سال تک انصاف کا انتظار کیا۔علی زیدی کا کہنا ہے کہ فیصلے نے ثابت کردیا ہے کہ سندھ پولیس کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹس میں گڑبڑ کی گئی، اس فیصلے نے سندھ پولیس کی کارکردگی پربھی سوالات اٹھادیے ہیں۔وفاقی وزیر کا مزید کہنا ہےکہ اس فیصلے کا سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ حسب معمول سہولت کار، منصوبہ ساز اور حکم دینے والے بچ گئے جب کہ نیچے کے لوگ جنہوں نے ان کے حکم پر یہ سب کیا انہیں سزا مل گئی ہے۔واضح رہےکہ کراچی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے 8 سال بعد سانحہ بلدیہ فیکٹری کافیصلہ سنادیا ہے۔کراچی کی اینٹی ٹیرازم عدالت نے بلدیہ فیکٹری کیس کے تحریری فیصلے میں رحمان بھولا اور زبیر چریا کو 264 مرتبہ تختہ دار پر لٹکانے کا حکم دیا ہے۔اس کے علاوہ فیکٹری منیجر شاہ رُخ، علی احمد، فضل محمد اور ارشد محمود کو سہولت کاری کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی ہے، ان چاروں کا جرم یہ ہے کہ انہوں نے رحمان بھولا اور زبیر چریا کیلئے فیکٹری کے گیٹ کھلوائے اور آتش گیر کیمیکل فیکٹری کے اندر لانے کی راہ ہموار کی۔ایم کیو ایم کے سابق صوبائی وزیر روف صدیقی، حسن قادری، ڈاکٹر عبدالستار اور ادیب خانم کو عدم شواہد کی بنا پر بری کردیا گیا۔ ان پر سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرنے اور لواحقین کی امداد کے نام پر فیکٹری مالکان سے پانچ کروڑ روپے وصول کرنے کا الزام تھا۔ایم کیو ایم تنظیمی کمیٹی کے انچارج اور مقدمے کے مرکزی ملزم حماد صدیقی اور علی حسن قادری کو اشتہاری قرار دے کر دائمی وارنٹ جاری کردیے گئے ہیں۔

dadaddadd

اپنا تبصرہ بھیجیں