پاکستان میں کورونا کےپے درپے وار جاری ۔۔۔ سرکاری دفاتر کیلئے نئے ایس او پیز جاری،ملازمین کو کیا کرنا ہوگا؟ جانیے

اسلام آباد(ویب ڈیسک)ملک بھر میں کورونا وائرس کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد وفاقی حکومت نے سرکاری دفاتر کے لیے نئے ایس او پیز جاری کردیے ہیں۔وفاقی حکومت کی جانب سے سرکاری دفاتر کے لیے جاری کردہ نئے ایس او پیز کے مطابق تمام دفاتر میں کام کرنے والے ملازمین ماسک لازمی پہنیں گے

جب کہ علامات کی صورت میں فوری ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ کو آئیسولیشن سے متعلق آگاہ کریں، جب کہ دفاتر میں کورونا سے بچاؤ کے لیے ای فائلنگ سسٹم کو ترجیح دی جائے۔ سرکلر کے مطابق اگر ہارڈ فائل کو آگے بھیجنا ہے تو اسٹاف فائل اور دستاویزات کو سینیٹائز کرے جب کہ دفتری امور سے متعلق تمام اہم ملاقاتوں کا انعقاد آن لائن کیا جائے۔وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کردہ سرکلر کے مطابق حفاظتی تدابیر کے پیش نظر دفاتر کو صبح شام سینیٹائز کیا جائے جب کہ دفاتر میں ہاتھ نہ ملانے اور سماجی فاصلوں کا خصوصی خیال رکھا جائے۔علاوہ ازیں دفاتر میں 2 بار سینیٹائزیشن اور لفٹ میں بھی ماسک کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہنا ہے کہ مڈل کلاسزکے طلبا کل سےاسکول میں حاضر ہوں گے،پرائمری کلاسز کھولنے سے متعلق فیصلہ بھی جلد ہوگا، معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ اسکول کھلنے کے بعد کرونا کیسز کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوا۔اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اور معاون خصوصی برائے صحت نے ڈاکٹر فیصل نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔اس موقع پر وزیر تعلیم شفقت محمود نے آگاہ کیا کہ کل سے مڈل کلاسزکے طلبا اسکول میں حاضر ہوں گے، ہماری خواہش تھی کہ ملک کےلیےمشترکہ فیصلہ ہوتا تاہم سندھ کی جانب سے ایک ہفتے بعد کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ باقی دنیا کے مقابلے میں ہمارے ہاں کرونا کیسز کی شرح کم ہے، لوگ وبا میں اضافےکی بات کررہے ہیں مگر ہمیں ایسے کوئی شواہد نہیں ملے۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ ’ایک ہفتے کا جائزہ لینے کے بعد پرائمری کلاسز کھولنے سے متعلق اجلاس ہوگا جس میں صورت حال کو دیکھ کر آئندہ کا اعلان کیا جائے گا‘۔انہوں نے بتایا کہ ’نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اجلاس میں فیصلہ ہوا تھا کہ 15 جولائی کے بعد بھی امتحانات کی اجازت ہوگی، ابھی کوئی ایسےحالات نہیں ہیں کہ بطورحکومت ہم امتحانات روک دیں، والدین، طلبا اور اساتذہ حکومت سے تعاون کریں اور احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ’تمام طالب علم ماسک پہنیں اور ایس اوپیزپر عمل کیاجائے، اگرشرائط پرعمل نہ ہوا تو مجبوری کے تحت تعلیمی ادارے بند کیے جاسکتے ہیں۔معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ ہم ہر ہفتے ٹیسٹنگ اوردیگرتفصیل دیکھیں گے، 14ستمبرکے ہفتے میں اوسطاً کیس599 تھے، اب بھی شرح وہی ہے، اسکول کھولنے کے بعد ملک میں کیسز میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی، گزشتہ ایک ہفتے میں مجموعی کیسز میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔

dadaddadd

اپنا تبصرہ بھیجیں