اسلام آباد ماسٹر پلان پر نظرثانی،بین الاقوامی اداروں نے بولی جمع کرا دی

اسلام آباد (این این آئی) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ماسٹر پلان پر نظرثانی کے لیے شہری انتظامیہ کو بین الاقوامی ٹاؤن پلاننگ اداروں کے 4 کنسورشیمز سے بولی موصول ہوگئی ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق سی ڈی اے کے ذرائع نے بتایا کہ جانچ کے بعد مالی بولی تقریباً ایک ماہ میں کھول دی جائیگی تاکہ معاہدے کو سب سے کم بولی لگانے والے کو دیا جائے۔ماسٹر پلان 1960 میں

تیار کیا گیا تھا اور ہر 20 سال بعد اس پر نظر ثانی کی جانی تھی تاہم یکے بعد دیگرے حکومتوں نے شہر کی درپیش ضروریات کے مطابق مناسب نظر ثانی نہیں کی۔متعدد حکومتوں کی طرف سے ماسٹر پلان میں کسی پیشہ ورانہ ماہرین کی رائے کے بغیر بار بار انتخابی تبدیلیاں کی گئیں۔ذرائع نے بتایا کہ اب تک ماسٹر پلان میں 40 سے زیادہ تبدیلیاں کی جا چکی ہیں۔کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ پی سی ون کی قیمت تقریباً 60 کروڑ روپے ہے تاہم مالی بولیاں کھولنے کے بعد ہم دیکھیں گے کہ کمپنیوں نے کیا شرح پیش کی ہے۔انہوں نے بتایا کہ 4 کنسورشیمز میں 11 کمپنیوں کے نمائندے شامل ہیں۔کنسلٹنٹ فرم کی خدمات حاصل کرنے میں کافی تاخیر کے بعد سی ڈی اے نے رواں سال ستمبر میں معروف اداروں سے درخواستیں طلب کی تھیں۔پی ٹی آئی حکومت نے ماسٹر پلان پر نظرثانی کے لیے دسمبر 2018 میں ایک کمیشن تشکیل دیا تھا۔اکتوبر 2019 میں وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں وفاقی کابینہ نے کمیشن کے ذریعے تیار کردہ عبوری رپورٹ کو منظور کیا تھا اور کنسلٹنٹ کے ذریعے مناسب نظر ثانی کی ہدایت کی تھی۔اس کے بعد سی ڈی اے کو کابینہ کے ہدایت کردہ پلاننگ کمیشن کے ذریعے پیشکش کی درخواست (آر ایف پی) دستاویزات ملیں، یہ اقدام بین الاقوامی کمپنیوں کی بولیاں طلب کرنے سے کئی ماہ قبل اٹھایا گیا تھا۔سی ڈی اے کے عہدیداروں نے بتایا کہ

اسلام آباد ایک تیز رفتار ترقی پذیر شہر ہے اور فی الحال اس کی آبادی 22 لاکھ سے زیادہ ہے تاہم شہری ایجنسی 1960 میں یونانی ادارے – ڈوکسیاڈس ایسوسی ایٹس کے تیار کردہ ماسٹر پلان کے مطابق شہرکو چلا رہی ہے۔سی ڈی اے کے ایک عہدیدار نے کہا کہ ’60 سال کے بعد اس شہر میں بہت سی تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں اور دائمی مسائل کے بہتر حل کے

لیے اس میں ترمیم اور ماسٹر پلان میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ماسٹر پلان میں کی جانے والی انتخابی تبدیلیوں کو مناسب نظرثانی سے نظر انداز کرنے سے غیر مجاز تعمیرات، خاص طور پر دارالحکومت کے دیہی علاقوں میں ناقص منصوبہ بندی اور اچانک نمو کا خاتمہ ہوا۔انہوں نے بتایا کہ شہری علاقے میں بھی درجنوں کچی آبادیاں ہیں۔

. اسلام آباد ماسٹر پلان پر نظرثانی،بین الاقوامی اداروں نے بولی جمع کرا دی ..

dadaddadd

اپنا تبصرہ بھیجیں