حکمرانوں کے اندھے انتقام کے آگے بند باندھیں ،عدالتوں سے اپیل کرتے ہوئے رانا ثنا ء اللہ نے اسٹیبلشمنٹ سے بھی حیرت انگیز درخواست کردی

لاہور(این این آئی) مسلم لیگ(ن) پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ عدالتوں سے اپیل ہے کہ حکمرانوں کے اندھے انتقام کے آگے بند باندھیں او ریہ ان کی آئینی اور انسانی حقوق کے تحت بھی ذمہ داری ہے ، اسٹیبلشمنٹ کے ذمہ داران سے بھی کہتا ہوں کہ اس معاملے کو دیکھیں ، حکمرانوں کے اقدامات سے معاشرے میں انتشار اور افرا تفری پھیلے گی اور اگر یہ سلسلہ

شروع ہوا تو ہر بندہ اس کی لپیٹ میں آئے گا ،اگر میں نے اپنی پوری زندگی میں اگر ہیروئن کو ہاتھ یا کش لگایا ہو تو میرے اوپر خدا کا قہر نازل ہو ، جب ہم کہتے ہیں کہ یہ مقدمات اور ریفرنسز جھوٹے ہیں تو آگے سے کہا جاتا ہے کہ این آر او مانگ رہے ہیں ، اگر کھوکھر برادران ستائیس مقدمات درج ہونے کے باوجود اپنی جگہ پر قائم ہیں تو یہ تعداد اٹھائیس یا انتیس بھی ہو جائے تو یہ اپنی قیادت کے ساتھ کھڑے رہیں گے،ضمنی انتخابات کے حوالے سے فیصلہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے ہوگا،اسٹیبلشمنٹ نے کہا تھا نیب کے قانون میں ترمیم ہونی چاہیے کیونکہ بزنس کمیونٹی کو اس پر اعتراضات ہیں ،ہائوسنگ سوسائٹیوں سے پیسہ بٹورنے کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ نے نیب قوانین میں ترامیم کا کہا تھا ،شاہ محمو دقریشی نے نواز شریف کو سلام بھیجا اور مجھے یہ بھی کہا یہ پاگل نیب قوانین میں ترامیم پر نہیں مان رہا اور شہزاد اکبر اس کا ایجنٹ ہے ۔ کھوکھر برادران سے اظہار یکجہتی کے لئے ان کی رہائشگاہ آمد کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ کھوکھر فیملی کے ساتھ اظہار یکجہتی اور حوصلہ افزائی کیلئے یہاں آیا ہوں،اندھے سیاسی انتقام کے باوجود کھوکھر فیملی اپنے قائد نواز شریف کے ساتھ کھڑی ہے،حکومت گھٹیا انتقام کو ہمارے گھروں تک لے آئی،آج ہماری خواتین کو عدالتوں میں گھسیٹ رہے ہیں ، حکمران انتقام کا جو معیار سیٹ کر رہے ہیں پھر جب ہم آئیں گے تو بات وہی سے

شروع ہو گی ۔،وقت بدلتے ہوئے دیر نہیں لگتی۔ انہوںنے کہا کہ ہماری روایت یے کہ ہم بد ترین حریفوں کی بھی ماں بہنوں کی عزت کرتے ہیں،شریف فیملی سمیت لیگی رہنمائوں کی چادرو اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا جارہا ہے،آپ شریف فیملی کی خواتین کو اشتہاری قرار دے رہے ہیں،غیرت اور شرم و حیا سے عاری انتقام کا آپ کو بھی سامنا کرنا پڑے گا ۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی

تاریخ ہے کہ بابا رحمتے بھی بد ترین انتقام کا حصہ بنے ، انہوں نے کھوکھر فیملی کی ایک ایک انچ زمین کی انکوائری کرائی او رجرمانے کئے گئے۔ پھر سپریم کورٹ کا بنچ بنا جس نے انہیں کلیئر کیا ۔ اب اینٹی کرپشن والے کرینیں او ربلڈوزرز لے کر آ گئے ہیں ، اگر ورکرز اور کھوکھر فیملی احتجاج نہ کرتی تویہ تو گھر گھرانا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بنی گالہ کا گھر جو سو

فیصد غیر قانونی ہے وہ تو ریگولرائز ہو سکتا ہے ، جس کابینہ کے اجلاس میں عمران خان کے گھر کو ریگولرائز کرنے کی منظوری دی گئی اس اجلاس کی صدارت عمران خان نے خود کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے اپیل ہے کہ وہ اس انتقام کے آگے بند باندھیں اور حکمرانوں کی انتقام کی آگ کو روکیں ، اگر یہ بڑھتی گئی

تو سارا معاشرہ اس کی لپیٹ میں آ جائے گا ۔ میں آئینی اداروں اور اسٹیبلشمنٹ کے ذمہ داروں سے بھی کہا ہوں کہ وہ اس گھٹیا انتقام کو روکیں،اگر یہ سلسلہ نہ رکا تویہ معاشرے کو تباہ کرے گا اور اس سے افرا تفری اور انتشار پھیلے گا اور پھر ہر بندہ اس کی لپیٹ میں آئے گا ۔ہم اپنی خواتین کو عدالتوں میں گھسیٹے جانے کے باوجود ، گھروں پر بلڈوزرز لے کر آنے کے باوجود اپیل

کر رہے ہیں،یکطرفہ انتقام کی بھی ایک حد ہوتی ہے اس کو مزید برداشت نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کو اس سارے انتقام کو دیکھنا اور روکنا چاہیے ،اختیار رکھنے والے اگر نوٹس نہیں لیں گے تو سبھی لپیٹ میں آئیں گے ۔بیوروکریسی کو کہتا ہوں کہ بنی گالا سے زبانی احکامات کا کل کوئی والی وارث نہیں بنے گا،بیوروکریسی والے سول آفیسر بنیں آپ غلط

ٹولے کا حصہ نہ بنیں،بیوروکریسی کے افسران اگر غلط ٹولے کا حصہ بنے تو کل کو انکوائریاں بھگتنا پڑیں گی ۔ امید کے کہ ذمہ دران لوگ اس کا تدارک کریں گے اور آئینی ذمہ داری نبھائیں گے ۔ انہوںنے کہا کہ کھوکھر پیلس مسلم لیگ (ن) کا گھر ہے اگر اسے انتقام کا نشانہ بنایا گیا تو آپ کو بھی بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے شر سے ہماری جدوجہد نہیں ر کے گی ، ہو سکتا

ہے دوسری جماعتوں میں بھی کام ہو رہا ہو،پی ڈی ایم کی جدوجہد جاری رہے گی لانگ مارچ بھی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ خان صاحب کہہ رہے ہیں کہ اپوزیشن سات دن تک دھرنا دے کر دکھائیں تو میں سوچوں گا، تو ہم انہیں سوچنے کا موقع بھی نہیں دیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ماڈل ٹائون میں پولیس اور طاہر القادری کے چاہنے والوں میں تصادم ہوا،حلفاً کہتا ہوں اس موقع پر جو ہوا اس سے

کسی پلاننگ کا یا کسی سازش کا قطعاًتعلق نہیں تھا،یہ بات جے آئی ٹی، ہائیکورٹ اور انسداد دہشتگردی عدالت میں بھی ثابت ہے۔ انہوںنے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں نے اسٹیبلشمنٹ سے یہ نہیں کہا کہ کھوکھر فیملی کے گھر کی پیمائش کرائیں،کھوکھر فیملی کو مسلم لیگ (ن)کے ساتھ کھڑا ہونے کی سزا دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ استعفوں کا آپشن آخری آپشن ہے، سڑک گرم

ہونے تک استعفوں کا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے ،مناسب وقت پر استعفوں کو استعمال کریں گے،جس شخص نے اس مرحلے پر اس جدوجہد کو نقصان پہنچایا وہ سیاسی طور پر دفن ہو جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ میری بات پلے باندھ لیں کہ چوہان کی منجی ٹھک چکی ہے اب جو اس کی جگہ ہے اس کی بھی منجی ٹھک جائے گی۔ انہوںنے کہا کہ میری میاں جاوید لطیف سے خود بات ہوئی ہے

انہوں نے کہا کہ میں نے ایسی کوئی بات نہیں کی، جاوید لطیف تو خود انتقام کا نشانہ بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے کا فیصلہ پی ڈی ایم نے کرنا ہے،پی ایم ایل این پی ڈی ایم کے فیصلوں کی پابند ہوگی،جب تک استعفے منظور نہیں ہوتے تب تک ہمارے ممبر صوبائی و قومی اسمبلیوںمیں جائیں گے،استعفے سپیکر کو دینے کا ابھی تک فیصلہ نہیں ہوا۔ انہوں

نے کہا کہ جب فیٹف پربات شروع ہوئی تو مسلم لیگ (ن)کی طرف سے نیب کی ترمیم کی کوئی بات نہیں ہوئی، اسٹیبلشمنٹ نے کہا تھا کہ نیب پر بھی بات ہونی چاہیے کیونکہ بزنس مینوں کو نیب پر تحفظات تھے ،سیاست دانوں پر ظلم ہونے پر ہم آواز اٹھا لیتے ہیں،بزنس مین پرظلم کا کوئی نام ہی نہیں لیتا، تین تین سال سے ظلم سہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شاہ محمود قریشی نے مجھے سپیکر

اسمبلی کی میٹنگ میں بلا کر کہا کہ میاں صاحب کو سلام کہنا،شاہ محمود قریشی نے مجھے کہا کہ نیب کے معاملے پر یہ پاگل نہیں مان رہا ،شاہ محمود نے باتوں میں جو سب سے بے ضرر بت کہی وہ میں نے آپ کو بتا دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو اپیل کروں گا کہ لندن میں اپنے علاج پرتوجہ دیںلندن میں بیٹھنے سے یہاں پرجن کو تکلیف ہے وہ تکلیف برقرار رکھیں اور تقریریں بڑھائیں۔سیف الملوک کھوکھر کسی عہدے کے امیدوار نہیں۔

. حکمرانوں کے اندھے انتقام کے آگے بند باندھیں ،عدالتوں سے اپیل کرتے ہوئے رانا ثنا ء اللہ نے اسٹیبلشمنٹ سے بھی حیرت انگیز درخواست کردی ..

dadaddadd

اپنا تبصرہ بھیجیں