تعداد میں کمی کے باوجود وفاقی ملازمین کی بھرتیوں میں اضافہ تہلکہ خیز انکشافات

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی کابینہ کو بتایا گیا ہے کہ تعداد میں کمی کے باوجود وفاقی سطح پر ملازمین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور اعداد شمار کا جائزہ لینے پر معلوم ہوتا ہے کہ سال 2016-17ء میں ایک لاکھ 37؍ ہزار افراد نئے ملازمین بھرتی کیے گئے۔تاہم، موجودہ حکومت نے ایک دہائی میں پہلی مرتبہ 2019-20ء میں ملازمین کی تعداد میں 27؍ ہزار تک کی کمی کی۔روزنامہ

جنگ میں انصار عباسی کی خبر کے مطابق سرکاری ذرائع کے مطابق، ڈاکٹر عشرت حسین نے کابینہ کو بتایا کہ 2010-11ء میں وفاقی سطح پر ملازمین کی مجموعی تعداد 8؍ لاکھ 29؍ ہزار تھی اور یہ تعداد 2016-17ء تک قدرے مستحکم تھی لیکن جب اس میں مزید ایک لاکھ 37؍ ہزار نئے بھرتی ہونے والوں کا اضافہ ہوا تو یہ تعداد 9؍ لاکھ 66؍ ہزار ہوگئی۔کہا جاتا ہے کہ زیادہ تر یعنی ایک لاکھ 16؍ ہزار بھرتیاں (پچاسی فیصد) وفاقی حکومت میں سیکریٹریٹ اور منسلکہ محکموں میں ہوئیں جبکہ خود مختار اداروں میں بھرتی ہونے والے افراد کی تعداد 21؍ ہزار رہی۔کابینہ کو یہ بھی بتایا گیا کہ سرکاری شعبے میں افسر اور اسٹاف کے درمیان تناسب کو نہ صرف معقول بنایا جائے بلکہ سویلین مسلح فورسز کی تعداد اور ڈھانچے کا بھی جائزہ لیا جائے۔وزارت داخلہ سے کہا گیا ہے کہ اس صورتحال کا جائزہ لے۔ کہا گیا ہے کہ مددگار عملے (سپورٹ اسٹاف) کی بڑی تعداد کا جائزہ لیا جائے اور ڈویژنوں سے کہا جائے کہ وہ اس تناسب کو 1:3 تک لائیں۔ملازمین کی تعداد کم کرکے سرکاری اداروں اور ایجنسیوں کا حجم کم کرنے

(Rightsizing) کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ایک سال یا اس سے زیادہ عرصہ سے خالی 71؍ ہزار اسامیوں کو ختم کرنے کے کابینہ کمیٹی برائے عملدرآمد کے فیصلے کی توثیق کی جانا چاہئے اور یہ اقدامات ہر سال بجٹ کی تیاری سے قبل کیے جانا چاہئیں۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں کابینہ کی جانب سے جولائی 2019ء کو منظور کیے جانے والے فیصلے کی روشنی میں وفاقی

حکومت کی از سر نو ڈھانچہ سازی کے حوالے سے کہا گیا کہ 2019-20ء میں دیکھیں تو 2018-19ء کے مقابلے میں ملازمین کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ وفاقی حکومت اور خود مختار اداروں میں 2019-20ء کے دوران 26؍ ہزار 641؍ اسامیاں کم ہوئی ہیں۔بجٹ کے لحاظ سے ہونے والی بچت کو دیکھیں تو سویلین انتظامیہ

اور وفاقی حکومت کے ملازمین کی تنخواہوں اور الائونسز کی مد میں 2019-20ء کے دوران 4؍ ار ب روپے کی معمولی بچت ہوئی ہے جبکہ حقیقی بنیادوں پر دیکھیں تو 28؍ ارب روپے کی بچت ہوئی ہے۔ کابینہ کو بتایا گیا ہے کہ اس بچت میں خود مختار اداروں اور کارپوریشنز میں ہونے والی بچت شامل نہیں۔ وفاقی وزارتوں اور ڈویژنوں کی از سر نو ڈھانچہ سازی اور رائٹ سائزنگ کیلئے قائم

کردہ کمیٹی نے اپریل 2001ء میں سفارش کی تھی کہ افسر اور اسٹاف کا تناسب 1:3 رکھا جائے۔تاہم، اس تناسب پر منظم انداز سے عمل نہیں کیا گیا۔ اوسط شرح 1:4 ہے۔ کہا گیا ہے کہ 11؍ ڈویژنیں ایسی ہیں جہاں یہ تناسب 1:6 یا اس سے زیادہ ہے جبکہ سات ڈویژنیں ایسی ہیں جہاں یہ افسراور اسٹاف کا تناسب 1:3 ہے۔کابینہ کو بتایا گیا ہے کہ وفاقی سیکریٹریٹ میں E-Filing اور E-Office

Suite (خط و کتابت اور کاغذی کارروائی کا کمپیوٹرائزڈ نظام) لازمی قرار دیے جانے کے بعد سے ضروری ہے کہ افسر اور اسٹاف کے تناسب 1:3 پر لازماً عملدرآمد کرایا جائے۔ وفاقی ملازمین کی مجموعی تعداد میں سے 95؍ فیصد ملازمین گریڈ ایک تا 16؍ کے ہیں یا پھر اسٹاف پوزیشن پر ہیں۔ان ملازمین کو دی جانے والی تنخواہیں اور الائونسز وفاقی حکومت کے تنخواہوں کی مد میں کیے جانے

والے اخراجات کا 80؍ سے 85؍ فیصد بنتا ہے، افسر اور اسٹاف کا تناسب تبدیل نہیں ہوا اور یہ 1:20 ہے، سیکریٹریٹ میں یہ تناسب 1:6 ہے۔کابینہ کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پچاس فیصد اسٹاف پوزیشنز پر قاصد، چوکیدار، خاکروب، مالی، ڈرائیورز، ڈسپیچ رائیڈرز وغیرہ کام کر رہے ہیں۔وفاقی سیکریٹریٹ کے اپنے ایسے ملازمین کی تعداد 4,718؍ ہے اور سیکریٹریٹ کے مجموعی اسٹاف کا 38؍

فیصد بنتا ہے۔ وفاقی حکومت (سیکریٹریٹ اور منسلکہ محکمہ جات) کے ملازمین کی مجموعی تعداد 2019-20ء میں 5؍ لاکھ 65؍ ہزار تھی۔ان میں 13؍ ہزار ملازمین سیکریٹریٹ، 8؍ ہزار آئینی اداروں جبکہ منسلکہ محکموں میں 5؍ لاکھ 44؍ ہزار ملازمین کام کرتے تھے۔ علاوہ ازیں، تین لاکھ 90؍ ہزار ملازمین خود مختار، نیم خود مختار اداروں اور کارپوریشنز وغیرہ میں کام کرتے تھے۔وفاقی سطح پر کام کرنے والے سویلین ملازمین کی اس طرح مجموعی تعداد 9؍ لاکھ 55؍ ہزار تھی۔

. تعداد میں کمی کے باوجود وفاقی ملازمین کی بھرتیوں میں اضافہ تہلکہ خیز انکشافات ..

dadaddadd

اپنا تبصرہ بھیجیں