پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس!! CPEC اتھارٹی کے عہدیدار کو شرمندگی کا سامنا، مگر کیوں؟ تفصیلات آگئیں

اسلام آباد (ویب ڈیسک) چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اتھارٹی کے سینئر عہدیدار (چیئرمین نہیں) کو سی پیک پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں خفت اٹھانا پڑگئی اور پچھلی نشست لینا پڑی جس کے ارکان نے سی پیک اتھارٹی آرڈیننس کے زائل ہونے کے باعث گفتگو میں ان کی باضابطہ شرکت پر اعتراض کیا تھا۔

اس فورم کا حصہ سابق اسپیکر اور مسلم لیگ نون کے سینئر رہنماء ایاز صادق نے دی نیوز کو بتایا کہ ہم نے نشاندہی کی کہ اس اجلاس میں عہدیدار کی موجودگی غیر قانونی ہے کیونکہ سی پیک اتھارٹی آرڈیننس اب موجود نہیں ہے۔ ہم نے ان سے کہا کہ اگر وہ پارلیمانی پینل کی کارروائی کا مشاہدہ کرنا چاہتے ہیں تو وہ پچھلی نشستوں پر چلے جائیں۔ ایاز صادق کے مطابق جب عہدیدار سے پوچھا گیا کہ آیا وہ سی پیک اتھارٹی سے وابستہ ہونے کے لئے ماہانہ تنخواہ لے رہے ہیں تو انہوں نے نفی میں جواب دیا۔ انہیں بتایا گیا کہ چونکہ سی پیک آرڈیننس ختم ہوچکا ہے اور حکومت نے اس میں توسیع نہیں کی ہے اور نا ہی اسے پارلیمنٹ نے منظور کیا ہے، لہٰذا پینل کی باضابطہ کارروائی میں ان کی موجودگی غیر قانونی ہے۔ ایاز صادق نے کہا کہ کوئی بھی پارلیمانی کمیٹیوں کی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتا ہے اگر اسے بلایا جائے تو، بصورت دیگر وہ ایسا نہیں کرسکتا۔

dadaddadd

اپنا تبصرہ بھیجیں