خودکشی سے قبل ڈاکٹر ماہاعلی سے زیادتی کی گئی پورسٹ مارٹم رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)کراچی میں خودکشی کرنے والی ڈاکٹر ماہا شاہ کے ساتھ خودکشی سے قبل مبینہ طور پر زیادتی کا بھی انکشاف ہوا ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق ڈاکٹر ماہا کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ میر پور خاص میں ڈاکٹر ماہا کی قبر کشائی کی گئی تھی۔میڈیکل بورڈ نے ڈاکٹر ماہا کا پوسٹ مارٹم کیا۔خودکشی سے قبل ڈاکٹر ماہا کے ساتھ مبینہ طور پر زیادتی کی گئی۔پوسٹ مارٹم میں ایک مرد ڈی این اے کا پتہ لگا۔2 ملزمان کا ڈی این اے حاصل کر لیا گیا ہے۔تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ کیس کے 7 مشتبہ ملزمان کا ڈی این اے حاصل کیا جائے گا۔ملزم جنید کی جانب سے تاحال ڈی این اے کا سیمپل نہیں دیا گیا۔ملزم کے ڈی این اے کرانے کے بعد حتمی چالان جمع کروانا ہو گا۔ دوسری جانبحکام نے ملزمان کے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کیلئے عدالت میں درخواست دائر کردی ہے ،عدالت نے 5جنوری تک ملزمان کے ڈی این اے ٹیسٹ کرا کر رپورٹ جمع کرانے کا حکم جاری کردیا،تفتیشی حکام نے کہا ہے کہ 2ملزمان جنید اور وقار تعاون نہیں کر رہے ،۔ڈاکٹر ماہا علی کی قبرکشائی کے بعد ان سے زیادتی کے شواہد ملے ہیں ،اس سے پہلے ڈاکٹر ماہا علی خودکشی کیس میں وجہ خودکشی بننے کے مقدمے میں سندھ ہائی کورٹ نے ملزم جنید خان اور دیگر کی ضمانتیں کنفرم کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عمر سیال نے گزشتہ سماعت پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا، کیس میں ملزم جنید خان کی طرف سے عامر منصوب ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ ہائی کورٹ نے ڈاکٹر ماہا علی کی خودکشی کی وجہ بننے کے مقدمے کی تفتیش میں دوہرا رویہ معیار اپنانے پر پولیس کے تفتیشی افسر سب انسپکٹر شرافت علی کی سخت سرزنش کی۔عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ اسی مقدمے کے ایک مرکزی ملزم کو کس طرح کیس سے نکال دیا گیا؟ مرکزی ملزم کو کیس سے نکالنے کے بعد تین ماہ گزر گئے ہیں مگر استغاثہ نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کیوں نہیں کی؟ہائی کورٹ نے تفتیشی افسر سے یہ بھی استفسار کیا کہ ملزم جنید خان پر دفعہ 337 جے کس قانون کے تحت لاگو کی گئی؟ ملزم جنید خان اور دیگر کے خلاف پولیس کے پاس کیا شواہد ہیں۔؟عدالت کے استفسار پر تفتیشی افسر سب انسپکٹر شرافت علی نے نفی میں سر ہلایا اور سال 2018 کے ایک واقعہ کے ثبوت کے طور پر تفتیشی افسر نے ایک یو ایس بی عدالت کو دکھائی، جس پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ کیا ایک یو ایس بی کی بنیاد پر ملزم کو سزا دے دی جائے؟واضح رہے کہ ڈاکٹر ماہا نے دو ماہ قبل کراچی میں مبینہ طور پر خود کو گولی مار کر خودکشی کی تھی، جبکہ ڈاکٹر ماہا کے والد کی دائر درخواست میں بیٹی کے دوست، ایک اسپتال کے ڈینٹسٹ اور ڈاکٹر کو نامزد کیا ہے اور ان افراد پر ماہا کو تشدد کا نشانہ بنانے، زخمی کرنے اور نشے کا عادی بنانے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے ۔

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ڈاکٹر ماہا شاہ کے ساتھ خودکشی سے قبل مبینہ طور پر زیادتی کا انکشاف ۔نجی ٹی وی کے مطابق ڈاکٹر ماہا کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ میر پور خاص میں ڈاکٹر ماہا کی قبر کشائی کی گئی تھی۔

میڈیکل بورڈ نے ڈاکٹر ماہا کا پوسٹ مارٹم کیا۔خودکشی سے قبل ڈاکٹر ماہا کے ساتھ مبینہ طور پر زیادتی کی گئی۔پوسٹ مارٹم میں ایک مرد ڈی این اے کا پتہ لگا۔2 ملزمان کا ڈی این اے حاصل کر لیا گیا ہے۔تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ کیس کے 7 مشتبہ ملزمان کا ڈی این اے حاصل کیا جائے گا۔ملزم جنید کی جانب سے تاحال ڈی این اے کا سیمپل نہیں دیا گیا۔ملزم کے ڈی این اے کرانے کے بعد حتمی چالان جمع کروانا ہو گا۔ دوسری جانب حکام نے ملزمان کے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کیلئے عدالت میں درخواست دائر کردی ہے ،تفتیشی حکام نے کہا ہے کہ 2ملزمان جنید اور وقار تعاون نہیں کر رہے۔ڈاکٹر ماہا علی کی قبرکشائی کے بعد ان سے زیادتی کے شواہد ملے ہیں ،عدالت نے 5جنوری تک ملزمان کے ڈی این اے ٹیسٹ کرا کر رپورٹ جمع کرانے کا حکم جاری کردیا،اس سے پہلے ڈاکٹر ماہا علی خودکشی کیس میں وجہ خودکشی بننے کے مقدمے میں سندھ ہائی کورٹ نے ملزم جنید خان اور دیگر کی ضمانتیں کنفرم کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عمر سیال نے گزشتہ سماعت پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا، کیس میں ملزم جنید خان کی طرف سے عامر منصوب ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ ہائی کورٹ نے ڈاکٹر ماہا علی کی خودکشی کی وجہ بننے کے مقدمے کی تفتیش میں دوہرا رویہ معیار اپنانے

پر پولیس کے تفتیشی افسر سب انسپکٹر شرافت علی کی سخت سرزنش کی۔عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ اسی مقدمے کے ایک مرکزی ملزم کو کس طرح کیس سے نکال دیا گیا؟ مرکزی ملزم کو کیس سے نکالنے کے بعد تین ماہ گزر گئے ہیں مگر استغاثہ نے اس فیصلے کے

خلاف اپیل کیوں نہیں کی؟ہائی کورٹ نے تفتیشی افسر سے یہ بھی استفسار کیا کہ ملزم جنید خان پر دفعہ 337 جے کس قانون کے تحت لاگو کی گئی؟ ملزم جنید خان اور دیگر کے خلاف پولیس کے پاس کیا شواہد ہیں۔؟عدالت کے استفسار پر تفتیشی افسر سب انسپکٹر شرافت علی نے نفی میں سر

ہلایا اور سال 2018 کے ایک واقعہ کے ثبوت کے طور پر تفتیشی افسر نے ایک یو ایس بی عدالت کو دکھائی، جس پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ کیا ایک یو ایس بی کی بنیاد پر ملزم کو سزا دے دی جائے؟واضح رہے کہ ڈاکٹر ماہا نے دو ماہ قبل کراچی میں مبینہ طور پر خود کو گولی مار کر خودکشی کی تھی، جبکہ ڈاکٹر ماہا کے والد کی دائر درخواست میں بیٹی کے دوست، ایک اسپتال کے ڈینٹسٹ اور ڈاکٹر کو نامزد کیا ہے اور ان افراد پر ماہا کو تشدد کا نشانہ بنانے، زخمی کرنے اور نشے کا عادی بنانے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے ۔

. خودکشی سے قبل ڈاکٹر ماہاعلی سے زیادتی کی گئی پورسٹ مارٹم رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات‎ ..

dadaddadd

اپنا تبصرہ بھیجیں