نواز شریف نے لیگی رہنماؤں کے عسکری قیادت سے مُلاقاتوں پر پابندی کیوں عائد کی؟

لاہور (نیوز ڈیسک ) سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ کے قائد میاں محمد نواز شریف نے پارٹی ارکان کی عسکری یا ایجنسیوں کے نمائندوں سے خفیہ ملاقاتوں پر پابندی لگا دی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ۔ پارٹی رہنماؤں کو انفرادی یا اجتماعی سطح پرعسکری یا ایجنسیوں کے نمائندوں سے ملاقات نہیں کرے گا، قومی سلامتی

یا آئینی تقاضوں کیلئے ضروری ملاقات پارٹی قیادت کی اجازت کے بعد اعلانیہ کی جائے گی، کسی ملاقات کو خفیہ نہیں رکھا جائے گا۔حالیہ واقعات سے ایک بار پھر ثابت ہوتا ہے کہ کس طرح بعض ملاقاتیں سات پردوں میں چھپی رہتی اور کس طرح بعض کی تشہیر کر کے مرضی کے معنی پہنائے جاتے ہیں۔اسی حوالے سے سینئر صحافی کامران خان نے بھی تبصرہ کیا ہے۔انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کا اعلان وہ لیگیوں پر فوجی نمائندوں انٹیلیجنس اراکین سے ملنے پر پابندی لگا رہے ہیں اس امر کا اعتراف ہے کہ آج سے پہلے انکے رہنماؤں نےجو انگنت ملاقاتیں ان شخصیات سے کیں ان کی مرضی و رضا شامل تھی۔کامران خان نے مزید کہا کہ یہ پابندی فوجی قیادت سےکسی قسم کے رسپانس نہ ملنے پر لگائی جارہی ہے۔

واضح رہے مسلم لیگ (ن ) کے رہنماء اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے آرمی چیف سے ہونے والی دو ملاقاتوں کی تصدیق کی ہے۔انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ آرمی چیف سے ملاقات میں کھانے کے دوران سیاست پر بھی بات ہوتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملاقات طویل تھی جس میں نوازشریف اور مریم نواز کے معاملے پر بھی گفتگو ہوئی۔ محمد زبیر نے بتایا کہ مریم نواز اور نوازشریف کے حوالے سے جب گفتگو کی تو آرمی چیف نے کہا قانونی معاملات عدالت کو دیکھنے چاہئیں۔ ن لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ اس قسم کی ملاقاتیں خفیہ ہوتی ہیں، اس لیے میں نے کسی سے کوئی تذکرہ نہیں کیا۔ محمد زبیر نے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمرباجوہ سے 40 سال پرانے تعلقات ہیں۔ان سے اسد عمر کے بیٹے کے ولیمے میں ملاقات ہوئی تو آرمی چیف نے کہا اسلام آبادآئیں ملاقات کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملاقاتوں میں نوازشریف اور مریم نواز سے متعلق گفتگو ہوئی مگر کوئی ریلیف نہیں مانگا۔ اس طرح کی مٹینگز میں سیاسی بات چیت بھی ہوجاتی ہے‘۔ محمد زبیر نے بتایا کہ دوسری ملاقات میں ڈی جی آئی ایس آئی بھی موجود تھے۔

dadaddadd

اپنا تبصرہ بھیجیں