وزیراعظم کا جنرل اسمبلی سے خطاب: پچھلے سال کن موقعوں پر ہال تالیوں سے گونجا تھا؟ پچھلے اور اس سال کی تقریر میں کیا فرق ہے ؟ جانیے

اسلام آباد(ویب ڈیسک) پچھلے سال وزیراعظم عمران خان کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران کئی بار ہال تالیوں سے گونجا۔وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی 74 ویں جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران بھارت کا مکروہ چہرہ اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جرائم کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا اور ساتھ

ہی اسلاموفوبیا، موسمیاتی تبدیلیوں اور کرپشن و منی لانڈرنگ پر کھل اظہار خیال کیا۔وزیراعظم کے جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران کئی بار ہال تالیوں سے گونجا۔ہم نے بڑے پیار سے وہ درخت لگائے تھے: عمران خان وزیراعظم نے خطاب میں پلوامہ حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پلوامہ حملے کے بعد بھارت نے پاکستان پر الزام عائد کرکے بم گرائے، ہم نے ان کے 2 طیارے مار گرائے، ہم نے فوری طور پر ان کا پائلٹ واپس کیا کیونکہ ہم امن چاہتے تھے، بھارت میں واویلا کیا گیا کہ پاکستان میں درجنوں دہشت گرد مارے، انہوں نے صرف 10 درخت تباہ کیے جس کا ہمیں دکھ ہے کیوں کہ ہم نے بڑے پیار سے وہ درخت لگائے تھے۔ عمران خان کی اس بات پر ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ برطانیہ میں اتنے ہی جانور بھی بند ہوتے تو شور مچ جاتا: وزیراعظموزیراعظم نے خطاب کے دوران مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارت فوج کے لاک ڈاؤن پر کہا کہ مقبوضہ وادی میں 9 لاکھ فوج نے 80 لاکھ افراد کو محصور کرررکھا ہے جن میں بچے، بوڑھے، خواتین اور بیمار شامل ہیں لیکن برطانیہ میں اتنے ہی جانور بھی بند ہوتے تو شور مچ جاتا، وہ انسان ہیں ان پر کوئی نہیں بولتا۔ عمران خان کی اس بات پر ایک بار پھر ہال تالیوں سے گونجا۔’9 لاکھ بھارتی فوجیوں کے ہوتے ہوئے 500 دہشت گرد بھیج کر کیا چاہتے ہیں‘عمران خان نے دوران خطاب بھارتی الزامات پر کہا کہ بھارتی مظالم کے سبب جب کوئی واقعہ ہوگا تو بھارت پھر اس کا الزام پاکستان پر لگائے گا،

ان کے وزیر دفاع نے الزام لگایا کہ 500 دہشت گرد کنٹرول لائن پر ہیں، ہم 9 لاکھ بھارتی فوجیوں کے ہوتے ہوئے 500 دہشت گرد بھیج کر کیا حاصل کرنا چاہیں گے؟ وزیراعظم کے ان الفاظ پر ایک بار پھر ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔کشمیر میں ہوتا تو بندوق اٹھا لیتا: وزیر اعظم عمران خانوزیر اعظم کا خطاب کے دوران مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کا احاطہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اگر میں کشمیر میں ہوتا اور 55 دن گھر میں بند کردیا جاتا، خواتین سے زیادتی ہوتی تو کیا میں چپ بیٹھتا؟ کیا میں ذلت کی زندگی گزارتا؟ بلکہ میں بھی بندوق اٹھا لیتا۔ اس پر ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ اس دوران وزیراعظم نے پھر خبردار کیا کہ صورتحال سنگین ہے اور کوئی بھی حملہ ہوا تو پاکستان پر الزام لگے گا اور 2 ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے آجائیں گی، 1945 میں اقوام متحدہ کے قیام کا مقصد ایسی صورتحال کو روکنا تھا۔ایک بار پھر ہال میں تالیوں کی گونج سنائی دی۔میرا یقین ہے کہ لا الہ الا اللہ ہم لڑیں گے‘وزیراعظم عمران خان نے بھارت کی اشتعال انگیزی پر جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جارحانہ انداز میں کہا کہ ’فرض کریں کہ ایک ملک اپنے پڑوسی سے سات گنا چھوٹا ہے، اسے دو آپشنز دیے جاتے ہیں، یا تو وہ سرنڈر کردے یا پھر اپنی آزادی کیلئے آخری سانس تک لڑے، ایسے میں ہم کیا کریں گے؟ میں خود سے یہ سوال پوچھتا ہوں، اور میرا یقین ہے کہ لاالہ اللہ ہم لڑیں گے‘۔ ان کے اس جملے پر ہال دوبارہ تالیوں سے گونج اٹھا۔

پھر وزیراعظم عمران خان نے خبردار کیا کہ ’جب ایٹمی طاقت کا حامل ملک آخری حد تک جنگ لڑتا ہے اس کے اثرات صرف اس کی سرحد تک محدود نہیں رہتے، دنیا بھر میں ہوتے ہیں، میں پھر کہتا ہوں کہ یہی وجہ ہے کہ میں آج یہاں کھڑا ہوں، میں دنیا کو خبردار کررہا ہوں، یہ دھمکی نہیں، لمحہ فکریہ ہے‘۔آخر میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کشمیر کی موجودہ صورتحال اقوام متحدہ کیلئے ٹیسٹ کیس ہے، اقوام متحدہ ہی تھا جس نے کشمیریوں کو حق خودارادیت کی ضمانت دی تھی۔عمران خان نے کہا کہ یہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات کیخلاف ایکشن لینے کا وقت ہے اور سب سے پہلا کام مقبوضہ کشمیر میں یہ ہونا چاہیے کہ بھارت وہاں 55 روز سے جاری غیر انسانی کرفیو کو فوری طور پر ختم کرے۔عمران خان نے مطالبہ کیا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کے تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرے اور بالخصوص ان 13 ہزار نوجوانوں کو رہا کرے جنہیں ان کے گھروں سے اٹھا لیا گیا اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کہاں ہیں۔اپنے اختتامی کلمات میں وزیراعظم نے کہا کہ ان اقدامات کے بعد عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دلوائے۔ آج 75 ویں اجلاس کا احوال کچھ اس طرح سے رہا کہ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے عملی اقدامات کرے، بھارت کا مقبوضہ کشمیر پر غیرقانونی قبضہ ہے،بھارت دنیا میں اسلامو فوبیا کو فروغ دے رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس نے بابری مسجد کو شہید کیا، بھارت نے کشمیری قیادت کو پابند سلاسل کردیا ہے،کشمیریوں کو محصور کرنے کے لیے اضافی فوج کو تعینات کیا گیا، فاشسٹ بھارتی حکومت کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ فوجی قبضے اورغیر قانونی توسیعی پسندانہ اقدامات سے حق خودارادیت کودبایاجا رہاہے،دنیا میں جب تک ہر شخص محفوظ نہیں تو کوئی شخص محفوظ نہیں۔انہوں نے کہا کہ وبا انسانیت کو متحد کرنے کے لیے ایک موقع تھا لیکن بدقسمتی سے قوم پرستی، بین الاقوامی سطح پر کشیدگی میں اضافہ ہوا اور مذہبی سطح پر نفرت میں اضافہ ہوا اور اسلاموفوبیا بھی سر چڑھ کر بولنے لگا۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے مقدس مزارات کو نشانہ بنایا گیا ہمارے پیغمبرﷺ کی گستاخی کی گئی، قرآن کو جلایاگیا اور یہ سب کچھ اظہار آزادی کے نام پر کیا گیا، چارلی ہیبڈو نے گستاخانہ خاکے دوبارہ شائع کرنے کی بات کی جو حالیہ مثال ہے۔عمران خان نے کہا کہ دنیا میں بھارت واحد ملک ہے جہاں ریاست کی معاونت سے اسلاموفوبیا ہے اس کی وجہ آر ایس ایس کے نظریات ہیں جو بدقسمتی سے بھارت میں حکمران ہے۔بھارت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس انتہا پسند نظریے کی تشکیل 1920 کی دہائی میں کی گئی اور اس کے بانی اراکین نازی نظریات سے متاثر تھے، نازی یہودیوں کو نشانہ بناتے تھے اور آر ایس ایس مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔جنرل اسمبلی کے 75ویں اجلاس سے ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی 75 ویں سالگرہ انتہائی اہم سنگ میل ہے،اسی صورت ہم عوام سے کیے گئے اپنے وعدوں کو بھی پورا کر سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری خارجہ پالیسی کامقصد ہمسایوں کیساتھ اچھے تعلقات اورمسائل کابات چیت سے حل ہے،ہم اس موقع پر امن ، استحکام اور پر امن ہمسائیگی کے مقصد کو حاصل کر سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی معاہدوں کی دھجیاں اڑائیں جا رہی ہیں، نئی مخالف قوتوں کے درمیان اسلحہ کی نئی دوڑ جاری ہے،تنازعات بڑھیں توشدت اختیارکرجاتے ہیں،ہم کثیر الجہتی اشترک سے مسائل کا حل چاہتے ہیں ۔عمران خان نے کہا کہ کورونا نے دنیا بھر میں غریب افراد کو سخت متاثر کیا ،لاک ڈاﺅن کی وجہ سے مسائل میں اضافہ ہوا ،پاکستان میں ہم نے سخت لاک ڈاون نہیں کیا بلکہ سمارٹ لاک ڈاﺅن کی پالیسی اپنائی ،ہم نہ صرف کوروناسے نمٹنے میں کامیاب ہوئے بلکہ معیشت کو بھی استحکام دیا۔ان کا کہنا تھا کہ جب سے ہماری حکومت آئی ہم نے عوام کی بہتری کے لیے کوششیں کیں، حکومتی پالیسیوں کامقصدشہریوں کے معیارزندگی میں اضافہ ہے۔

dadaddadd

اپنا تبصرہ بھیجیں