ٹریفک سارجنٹ کو گاڑی سے ٹکر مارنے کا کیس۔!! بری ہونے والے سابق رُکن اسمبلی مجید اچکزئی کے بارے میں فیصلہ کرلیا گیا

کوئٹہ (ویب ڈیسک) بلوچستان ہائیکورٹ نے ٹریفک پولیس اہلکار کی جان لینے کے کیس میں سابق رکن اسمبلی عبدالمجید اچکزئی کی بریت کے خلاف درخواست کو سماعت کے لیے منظور کر لیا۔ رپورٹ کے مطابق بلوچستان ہائی کورٹ مذکورہ درخواست پر اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں سماعت کرے گا

اور اس سلسلے میں فریقن کو نوٹس جاری کردیے گئے ہیں۔ کوئٹہ پولیس کی جانب سے دائر اپیل میں اعتراض اٹھایا گیا کہ ماڈل عدالت نے گواہوں کے بیانات کو وہ اہمیت نہیں دی۔ خیال رہے کہ 4 ستمبر کو کوئٹہ ماڈل کورٹ کے جج دوست محمد مندوخیل نے جان لینے کے کیس میں عدم شواہد کی بنا پر پشتونخوا ملی عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق ایم پی اے عبدالمجید اچکزئی کو بری کردیا تھا۔ جب یہ فیصلہ سنایا گیا تھا تب عبدالمجید اچکزئی اپنے وکلا کامران مرتضیٰ، خلیل الرحمٰن، نورجان بلیدی اور جعفر اعوان کے ہمراہ کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ یاد رہے کہ جون 2017 میں کوئٹہ کی جی پی او چوک پر ٹریفک سارجنٹ عطااللہ کوایک تیز رفتار گاڑی نے ٹکر ماردی تھی جس سے وہ جاں بحق ہوگئے تھے۔ واقعے سے متعلق یہ تفصیل سامنے آئی تھی کہ سابق قانون ساز بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے بعد واپس آرہے تھے کہ جب گاڑی نے اس ٹریفک پولیس اہلکار کو ٹکر ماردی جو وہاں فرائض کی انجام دہی میں مصروف تھا۔ بعد ازاں مذکورہ واقعے کی سی سی ٹی وی ویڈیو وائرل ہونے پر پولیس نے عبدالمجید اچکزئی کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا اور انہیں 25 جون 2017 کو جان لینے اور شرپسندی کے الزامات پر ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ابتدائی طور پر سول لائن پولیس نے اے ٹی سی عدالت میں چالان جمع کروایا تھا لیکن بعد ازاں کیس کو اس وقت ماڈل کورٹ میں منتقل کردیا گیا جب ثبوت نہ ہونے پر شرپسندی کا الزام واپس لے لیا گیا۔ یہ کیس 3 سال تک ماڈل عدالت میں زیرسماعت رہا۔

dadaddadd

اپنا تبصرہ بھیجیں