قیمتوں میں اضافے کے بعد 94 سے زائد ادویات مارکیٹ سے غائب، حیرت انگیز انکشاف

پشاور(آن لائن) قیمتوں میں اضافہ کے بعدپشاور سمیت صوبے بھر میں 94سے زائد ادویات مارکیٹ سے غائب کردی گئی ہیں جبکہ دوسری طرف ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی(ڈریپ) کی جانب سے 94ادویات کی قیمتوںمیں اضافے سے سب سے زیادہ متاثر وہ مریض ہوں گے جو روزانہ کی بنیاد پر ادویات کا لمبے عرصے تک استعمال کرتے ہیں ان میں بلڈ پریشر،شوگر، امراض قلب

اور کینسر کے مریض سرفہرست ہیں جن پر 35فیصد سے 60فیصد تک اضافی بوجھ پڑے گا۔ذرائع کے مطابق شوگر کی ادویات کی قیمتوںمیں 35سے 40فیصد،بلڈ پریشر کی ادویات میں60فیصد، کینسر کی ادویات میں 50فیصد جبکہ طاقت کیلئے ادویات کی قیمتوں میں 50فیصد اضافہ کیا گیا ہے اس طرح اگر ایک مریض شوگر کو کنٹرول کرنے کے روزانہ دو گولیاں لیتا ہے تو ایک ماہ میں اسے 60گولیاں درکار ہوں گی پہلے اگر یہ گولیاں 200روپے کی آتی تھیں تو اضافے کے بعد یہ گولیاں 225روپے کی آئیں گی اس طرح مریض پر ماہانہ 25روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا شوگر کنٹرول کرنے والی ایک گولی گلوکو فج 250ملی گرام 50گولیوں کا پیک پہلے 45روپے میں ملتا تھا جو اب بڑھ کر 72روپے کا ہو گیا ہے یعنی 27روپے کا اضافہ ہوا ہے،اسی طرح یہی گولی 850ملی گرام پہلے 60روپے کی 30گولیاں تھیں جو اب 126روپے کی ہوگئی ہیں اس میں 66روپے کا اضافہ ہوا،ایک گرام کی 50گولیاں پہلے 118روپے کی تھی جو 121روپے کے اضافے کے بعد اب 239روپے میں دستیاب ہوں گی اور یہ ہی صورتحال امراض قلب اورکینسر کی ادویات کی بھی ہے. ذرائع کے مطابق دیگر ادویات جن میں ایگزلمائڈ گولیوں کے پیک کی قیمت 60 روپے سے بڑھا کر 219 روپے، اینڈرلائن انجیکشن کی قیمت 217 سے 597، ڈوگزکلائن کیپسول کی قیمت 233 سے بڑھا کر 400، کیفن ون

انجیکشن کی قیمت 58 روپے سے 115، نیروجن پیک 62 سے 100، ذیمپسیلین 154 سے 248، کارٹن کریم 30 سے بڑھا کر 56، کیپسول پلس ٹیریمسولین کی قیمت 786 سے 1080 اور نیوروبیان گولیوں کے پیک کی قیمت 535 سے بڑھا کر 977 کر دی گئی ہے۔

. قیمتوں میں اضافے کے بعد 94 سے زائد ادویات مارکیٹ سے غائب، حیرت انگیز انکشاف ..

dadaddadd

اپنا تبصرہ بھیجیں