بھارت سے تجارت کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے، صدی کا سب سے بڑا یوٹرن قرار

لاہور( این این آئی)امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہاہے کہ بھارت سے تجارت کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے ، حکومت کا موقف تھاکہ جب تک A 35 اور دفعہ 370 کی بحالی نہیں ہوتی ہم بھارت کے ساتھ کوئی مذاکرات اور تجارت نہیں کریں گے ، اب وزیراعظم کشمیر کے حوالے سے اپنے موقف پر صدی کا

سب سے بڑا یوٹرن لے رہے ہیں،اقتصادی رابطہ کونسل کی سفارشات کی مذمت کرتے ہیں ،پاکستان کے بائیس کروڑ عوام کے دل کشمیر یوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں جب تک کشمیرمیں ایک بھی بھارتی فوجی موجودرہے گا بھارت سے کسی قسم کے تعلقات اور تجارت فروغ نہیں پاسکتی۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے منصورہ میں جماعت اسلامی کسان کے صدر شوکت علی چدھڑ کی سربراہی میں کسانوں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ صنعتوں کی بنیاد ہے اس کی تباہی ملک کا معاشی زوال ہے ۔گزشتہ ڈھائی سالوں میں صنعت ، زراعت اور تجارت مسلسل زوال کا شکار ہیں ۔ ملک کا کسان گندم اور گنے کی کاشت کے باوجود بدحال اور مافیاز خوشحال ہورہے ہیں ۔ آئی ایم ایف اپنی شرائط کے ذریعے معیشت میں ریڑھ کی ہڈی زراعت کو تباہ کرنے کی سازش کر رہاہے ۔ کاشتکار سہولیات سے محروم ہونے کے باوجود خون پسینے سے قوم کی خدمت کر رہے ہیں۔ حکومت غیر آباد زمینیں چھوٹے کاشتکاروں کو آلاٹ کر کے ملک کی خدمت کا موقع دے۔ کپاس ، چاول ، مکئی او رگنے کے فی ایکڑ پیداوار میں کمی اور ملک میں مجموعی طور پر بے برکتی اللہ کی نافرمانیوں کا نتیجہ ہے ۔ جب تک سودی نظام رہے گا ملک میں خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا ۔ سرا ج الحق نے کہاکہ مجموعی طور

پر اقتصادی زبوں حالی کی وجہ سے سوسائٹی میں جرائم کی شرح میں بھی اضافہ ہورہاہے ۔ملک میں تمام شعبہ ہائے زندگی کسان ، مزدور ، اساتذہ ، سرکاری ملازمین ، طلبہ احتجاج کرنے پر مجبور ہیں ۔ حکومت بہت کم عرصے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے ۔ عوام سے کیے گئے وعدوں پریوٹرن سے ملک میں مایوسی کی فضا

قائم ہورہی ہے ۔انہوںنے کہاکہ ہمارا ملک 70فیصد زراعت پر مشتمل ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں زراعت کے شعبے کو خصوصی سہولیات دی جائیں تاکہ یہاں کا کسان خوشحال ہو اور وہ بھر پور جذبے کے ساتھ اپنے ملک و قوم کی خدمت کر سکے لیکن بدقسمتی کے ساتھ گزشتہ حکومتوں کی طرح پی ٹی آئی حکومت نے بھی

اس اہم شعبہ کو نہ صرف نظر انداز کیا ، بلکہ آئے روز کسانوں کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہورہاہے ۔ اگر کسانوں کو کھاد ، بجلی ، بیج ، زرعی ادویات اور مشینری پر سبسڈی دی جائے تو وہ آج بھی ملک کے زر مبادلہ میں بہت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر سود سے پاک قرضوں کی سہولت

فراہم کر کے چھوٹے کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی کرے تاکہ وہ ملکی معیشت کی بہتری میں نمایاں کردار ادا کر سکیں ۔ مافیاز کو نوازنے کی بجائے اگر کاشتکار کو اس کا جائز معاوضہ دیا جائے تو ہمارے ملک کو زرعی اجناس درآمد کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ ہم بہت ساری زرعی اجناس دیگر ممالک کو برآمد کر کے بڑے پیمانے پر

زر مبادلہ کما سکتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ اگر ملک کے شعبہ زراعت پر خصوصی توجہ دی جاتی تو آج بھارت سے چینی ، کپاس اور دھاگا درآمد کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی ۔ دنیا فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کی طرف جارہی ہے جبکہ ہم کمی کاشکار ہیں جو کہ لمحہ فکریہ ہے ۔ سراج الحق نے کہاکہ ملک میں سودی نظام در اصل اللہ تعالیٰ کے

نظام کے ساتھ جنگ ہے جس کی وجہ سے ہر شعبہ زوال کاشکار ہے ۔ جب تک ہم اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے قوانین کی روشنی میں معاشی نظام وضع نہیں کرتے تب تک ہم ان مشکلات و مسائل سے نجات حاصل نہیں کر سکتے ۔ اب وقت آگیاہے کہ حکمران دو رنگی اور منافقت چھوڑ کر خالصتاً اللہ تعالیٰ کی بندگی کی طرف لوٹ آئیں تاکہ ملک میں

حقیقی خوشحالی کا آغاز ہوسکے ۔ جماعت اسلامی تمام شعبہ ہائے زندگی میں اللہ اور اس کے رسول ؐ کے حکم کے مطابق اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کر رہی ہے اور وہ دن دور نہیں جب عوام کی تائید کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے نظام کو نافذ کرنے کی کوشش کرنے والے ایوانوں میں موجود ہوں گے ۔سراج الحق نے کسانوں کو یقین دلایا کہ جماعت اسلامی کسانوں کے مسائل و مشکلات کے حل کے لیے ہر ممکن کو شش کرے گی ۔

. بھارت سے تجارت کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے، صدی کا سب سے بڑا یوٹرن قرار ..

dadaddadd

اپنا تبصرہ بھیجیں